سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخِ ولادت و وصال کے متعلق اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کی تحقیق از: ندیم احمد قادری نورانیکراچی میں ربیع الاول 1429ھ/2008ء کے جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر ایک گروہ نے حسبِ عادت اور حسبِ معمول حضور اکرم شافع روز جزا، سید المرسلین خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت و تاریخ وصال سے متعلق جھوٹ بولنے اور لکھنے کے ساتھ ساتھ ایک کام یہ بھی کیا کہ اُس جھوٹ کو امام اہلسنت اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدّدِ دین و ملت پروانۂ شمع رسالت الشاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے پمفلٹس اور اسٹیکرز نکالے اور شہر کی سڑکوں پر آویزاں اور بسوں وغیرہ پر چسپاں کیے اور اس جھوٹ میں ترقی کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ یہ منجانب ”انجمن فیضانِ رضا“ ہے، وہ جھوٹ کیا تھا؟وہ جھوٹ قارئینِ کرام کی خدمت میں نقل کرتا ہوں: یا اللہ عزوجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمولادتِ (پیدائش) نبی صلی اللہ علیہ وسلم 8 ربیع الاول ہےاور وفاتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم 12 ربیع الاول ہےتحقیقِ اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں بریلوی(نطق الہلال، صفحہ 12۔13، فتاویٰ رضویہ، جلد: 26، صفحہ: 412۔415) [انجمنِ فیضانِ رضا]اس گروہ نے عوامِ اہلسنت کو یہ دھوکا دینا چاہا کہ ”دیکھو تمہارے امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ کی تو یہ تحقیق ہے کہ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارک آٹھ ربیع الاول ہے، تو تم 12تاریخ کو جشنِ ولادت کیوں مناتے ہو جبکہ تمہارے امام کے نزدیک تو 12 ربیع الاول حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا دن ہے، یہ تو غم کا دن ہے اور تم جشن منار ہے ہو، تم نبی سے محبت کا نہیں عداوت کا ثبوت دے رہے ہو۔“ وغیرہ وغیرہ اور حوالہ دے دیا نطق الہلال اور فتاوٰی رضویہ کا اور یہ ظاہر کرنے کی بھی کوشش کی کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی یہ تحقیق نطق الہلال صفحہ 12،13 میں بھی ہے اور فتاویٰ رضویہ کی جلد 26 میں بھی ہے یعنی یہ دو الگ الگ حوالے ہیں۔ اب ہم قارئینِ کرام پر حقیقت واضح کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ سے حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و وصالِ مبارک سے متعلق چند تحریری سوالات کیے گئے۔ اُن کے جواب میں اعلیٰ حضرت نے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام ”نطق الہلال بار خ ولاد الحبیب والوصال“ (یعنی حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت و وصال پر شہادتِ ہلال) رکھا۔ یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ شریف (جلد:26، صفحات: 405 تا 428) میں بھی شامل کیا گیا ہے یعنی یہ دو الگ الگ حوالے نہیں بلکہ ایک ہی حوالہ ہے (یعنی نطق الہلال کا)۔حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارک (پیدائش) کا دن پیر اور مہینہ ربیع الاول ثابت کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں تاریخ ولادت کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:اس میں اقوال بہت مختلف ہیں، دو (2)،آٹھ (8)،دس (10)،بارہ (12)، سترہ(17)، اٹھارہ (18)، بائیس(22)، سات قول ہیں مگر اشہر و اکثر و ماخوذ و معتبر بارہویں ہے۔ مکۂ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ کو مکانِ مولدِ اقدس کی زیارت کرتے ہیں کما فی المواھب والمدارج (جیسا کہ مواھب لدنیہ اور مدارج النبوّت میں ہے) اور خاص اس مکانِ جنت نشان میں اِسی تاریخ کو مجلس میلادِ مقدس ہوتی ہے۔ علامہ قسطلانی و فاضل زرقانی فرماتے ہیں: اَلْمَشھُوْرُ اَنَّہ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وُلِدَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ ثَانِیَ عَشَرَ رَبِیْعِ الْاَوَّلِ وَھُوَ قَوْلُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقِ اِمَامِ الْمَغَازِیْ وَغَیْرِہ (شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ المقصد الاول ذکر تزوج عبد اللہ آمنۃ دار المعرفۃ بیروت1/132) (ترجمہ : مشہور یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ربیع الاول بروز پیر پیدا ہوئے امام المغازی محمد بن اسحاق کا یہی قول ہے)۔ شرح مواھب میں امام ابن کثیر سے ہے، ھُوَ الْمَشْھُوْرُ عِنْدَ الْجُمْھُوْرِ (ترجمہ: جمہور کے نزدیک یہی مشہور ہے)۔ اِسی میں ہے،ھُوَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْعَمَلُ (ترجمہ: یہی وہ ہے جس پر عمل ہے)۔ شرح الہمزیہ میں ہے، ھُوَ الْمَشْھُوْرُ وَعَلَیْہِ العَمَلُ (ترجمہ: یہی مشہور ہے اور اسی پر عمل ہے)۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد: 26، صفحات: 411 تا 412) قارئینِ کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے سات قول بیان فرمائے لیکن اِن میں سے اشہر یعنی زیادہ مشہور اکثر و ماخوذ یعنی اکثریت کا اختیار کردہ اور معتبر قول جس کو لکھا ہے وہ بارہ ربیع الاول ہے اور صفحہ 414 تک اِسی قول کو دلائل سے ثابت کیا ہے اِسی دوران صفحہ 412 پر ایک قول آٹھ تاریخ کا بھی آگیا اور زیجات حساب سے بھی اعلیٰ حضرت نے آٹھ ربیع الاول کیا۔ لیکن اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے اِسی قول کو اپنایا نہیں بلکہ اس قول کو نقل کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت نے جمہور کے قول یعنی بارہ ربیع الاول پر عمل کو ہی بہتر و مناسب لکھا ہے۔آٹھ تاریخ کو اعلیٰ حضرت کی تحقیق کہنا، دروغ گوئی اور بددیانتی کی ایک بڑی مثال ہے۔ فتاویٰ رضویہ کے مندرجہ بالا اقتباس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کے دور میں (وہابیوں کی حکومت سے (یعنی 1926ء سے) پہلے خاص اُس مکان جہاں مکۂ معظمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تھی باقاعدہ طور پر بارہ ربیع الاول کو میلاد شریف کی مجلس ہوتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اپنی کتاب ”فیوض الحرمین“ میں حرمین شریفین (مکہ و معظمہ و مدینہ منورہ) کی مجالس و محافلِ میلاد شریف کا ذکر فرمایا جن میں انہوں نے خود شرکت کی اور اُن محافل میں جن انوار و برکات کا انہوں نے مشاہدہ کیا وہ بھی اس کتاب میں بیان فرمائے۔ نوٹ: شاہ ولی اللہ محدث بریلوی وہ بزرگ ہیں جنہیں دیوبندی اور اہل حدیث بھی اپنا پیشوا جانتے ہیں۔ فتاوٰی رضویہ جلد 26 کے ہی صفحہ 428 پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”اور روزِ ولادت شریف اگر آٹھ بفرض غلط نو یا کوئی اور تاریخ ہو جب بھی بارہ کو عید میلاد کرنے سے کون سی ممانعت ہے۔“ یہاں اعلیٰ حضرت ”آٹھ“ کے ساتھ ”اگر“ کا استعمال کر رہے ہیں اِس سے بھی معلوم ہوا کہ ولادت شریف کی آٹھ تاریخ کو اعلیٰ حضرت کی تحقیق کہنا بالکل غلط، جھوٹ اور بد دیانتی ہے۔البتہ علمِ ہیات و زیجات کے حساب سے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے یہ تحقیق فرمائی ہے وہ کہ ولادت شریف 8ربیع الاول کو ہوئی لیکن اِسے اختیار نہیں فرمایا۔ آپ کا مختار (اختیار کردہ) قول 12 ربیع الاول ہی کا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا تحریر سے واضح طور پر ثابت ہے۔ تاریخ وفات شریفاعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وفات شریف کے بارے میں ایک استفتا کے جواب میں رقم طراز ہیں: ”قول مشہور و معتمد جمہور دواز دہم ربیع الاول شریف ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 26، صفحہ 415)اس گروہ نے اِس قول کو بھی اعلیٰ حضرت کی تحقیق کہہ دیا حالانکہ اعلیٰ حضرت یہ فرمارہے ہیں کہ یہ قول مشہور ہے اور جمہور یعنی اکثر علما نے اِسی قول پر اعتماد کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اقدس 12ربیع الاول ہے۔ لیکن اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے نزدیک 13ربیع الاول ہے اور جمہور کے قول 12 ربیع الاول کی 13 ربیع الاول کے ساتھ یوں تطبیق فرماتے ہیں:”اور تحقیق یہ ہے کہ حقیقتاً بحسب رؤیتِ مکۂ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرھویں تھی۔ مدینۂ طیبہ میں رؤیت نہ ہوئی (یعنی چاند نظر نہیں آیا) لہٰذا اُن کے حساب سے بارہویں ٹھہری وہی رُواۃ (یعنی روایت کرنے والوں) نے اپنے حساب کی بناہ پر روایت کی اور مشہور و مقبول جمہور ہوئی یہ حاصل تحقیق امام بارزی و امام عماد الدین بن کثیر اور امام بدر الدین بن جماعہ و غیرھم محدثین و محققین ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 26، صفحہ 417)۔ اعلیٰ حضرت نے اِس اقتباس میں امام بارزی، امام عماد الدین بن کثیر اور امام بدر الدین بن جماعہ وغیرھم ایسے بڑے محدثین و محققین کی تحقیق کا حاصل یہ بتایا کہ مکۂ معظمہ میں مدینۂ طیبہ سے ایک دن پہلے چاند نظر آگیا تھا لہٰذا مکۂ معظمہ میں چاند نظر آنے کے اعتبار سے تیرہ تاریخ تھی اور مدینۂ طیبہ میں چونکہ ایک دن بعد میں چاند نظر آیا اِس لحاظ سے راویوں نے اپنے حساب کی بناء پر بارہ ربیع الاول کی روایت کردی اور اِس طرح سے وفات اقدس کی تاریخ بارہ ربیع الاول مشہور ہوگئی اور جمہور نے اِن مشہور روایت پر اعتماد کر لیا لیکن حقیقت میں ربیع الاول شریف کی تیرھویں تھی اور اِسی کے لیے اعلیٰ حضرت نے فرمایا ”اور تحقیق یہ ہے۔“ وہ حضرات جو یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ اعلیٰ حضرت کی تحقیق یہ ہے کہ وفات شریف کی تاریخ بارہ ربیع الاول ہے اب ذرا اعلیٰ حضرت کی درج ذیل واقعی اور حقیقی تحقیق ملاحظہ فرمائیں کہ وفات شریف بارہ ربیع الاول کو نہیں ہوئی۔ اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں: ”تفصیل و مقام توضیح مرام یہ ہے کہ وفاتِ اقدس ماہِ ربیع الاول شریف روز دو شنبہ میں واقع ہوئی اِس قدر ثابت و مستحکم و یقینی ہے جس میں اصلاً جائے نزاع نہیں۔“ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 صفحہ 418)۔ یعنی وفات شریف ربیع الاول کے مہینے میں پیر کے دن ہوئی اِس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں (حتّٰی کے دیوبندی اور وہابی بھی اس سے متفق ہیں)۔ آگے چل کر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”ادھر یہ بلاشبہ ثابت ہے کہ اِس ربیع الاول سے پہلے جو ذی الحجہ تھا اُس کی پہلی روز پنجشنبہ تھی کہ حجۃ الوداع شریف بالا جماع روزِ جمعہ ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ جلد 26، صفحہ،418)یعنی جس ربیع الاول شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اُس سے تین مہینے پہلے جو ذی الحجہ تھا اُس کی پہلی تاریخ جمعرات کے دن تھی کیونکہ حجۃ الوداع شریف کے روز جمعہ (جمعہ کا دن) ہونے پر اجماع (یعنی سب کا اتفاق) ہے، یعنی 9ذی الحجہ کو جمعہ کا دن تھا لازمًا ذی الحجہ کی پہلی تاریخ جمعرات کو تھی۔(اس حساب سے 29 ذی الحجہ کو جمعرات ہوئی۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”اور جب ذی الحجہ 10ھء کی 29 روز پنجشنبہ تھی تو ربیع الاول 11ھ ء کی 12 کسی طرح روز ِ دو شنبہ نہیں آتی) کہ اگر ذی الحجہ، محرم، صفر تینوں مہینے 30کے لیے جائیں تو غرّہ ربیع الاول روز چار شنبہ ہوتا ہے اور پیر کی چھٹی اور تیرھویں، اور اگر تینوں 29 کے لیں تو غرّہ اور روزِ یکشنبہ پڑتا ہے اور پیر کی دوسری اور نویں، اور اگر اُن میں کوئی سا ایک ناقص اور باقی دو کامل لیجیے تو پہلی سہ شنبہ کی ہوتی ہے اور پیر کی ساتویں اور چوھویں، اور اگر ایک کامل دو ناقص مانیے تو پہلی پیر کی ہوتی ہے پھر پیر کی آٹھویں اور پندرھویں، غرض بارہویں کسی حساب سے نہیں آتی، اور ان چار کے سوا پانچویں کوئی صورت نہیں، قولِ جمہور پر یہ اشکال پہلے امام سہیلی کے خیال میں آیا اور اسے لاحل سمجھ کر انھوں نے قول یکم اور امام ابن حجر عسقلانی نے دوم کی طرف عدول فرمایا۔“ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 صفحات 418تا 419)خلاصہ یہ ہے کہ دو باتوں میں کسی کا اختلاف نہیں ہے پہلی بات یہ کہ وصال مبارک سے پہلے جو ذی الحجہ تھا اُس کی پہلی تاریخ جمعرات کے دن تھی کہ وقوف، عرفہ (9ذی الحجہ) بروز جمعہ ہونے پر سب متفق ہیں دوسری بات یہ کہ وفات اقدس ربیع الاول میں پیر کے دن ہوئی۔ تو ذی الحجہ کی پہلی تاریخ جمعرات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں یہ حساب لگانا ہوگا کہ آنے والے ربیع الاول شریف میں پیر کس کس تاریخ میں آیا۔ تو اگر ذی الحجہ، محرم، صفر تینوں مہینے تیس کے لیے جائیں تو ربیع الاول کی پہلی تاریخ بدھ کو ہوگی اور پیر کو 6، 13، 20 اور 27 تاریخیں ہوں گی اگر تینوں مہینے 29 کے لیے جائیں تو یکم ربیع الاول اتوار کو ہوگی اور پیر کے دن 2، 9، 16، 23 (اور 30 بھی ممکن ہے) تاریخیں ہوں گی اور اگر تینوں مہینوں میں سے کوئی سا ایک مہینہ 29 کا اور باقی دو مہینے 30 کے لیے جائیں تو ربیع الاول کی پہلی تاریخ منگل کی ہوگی اور پیر کو 7، 14، 21، 28 اور اگر تینوں مہینوں میں سے کوئی سا بھی ایک 30 کا لیجیے اور باقی دو 29 کے سمجھیں تو یکم ربیع الاول پیر کو ہوگی اوراِس طرح پیر کے دن 1، 8، 15، 29 تاریخیں ہوں گی یعنی چاروں صورتوں میں پیر کے دن ممکنہ تاریخیں یہ ہوئیں: 1، 2، 6، 7، 8، 9، 13، 14، 15، 16، 20، 22، 23، 27، 28، 29 اور 30۔ اِن چاروں صورتوں میں ربیع الاول کی 12تاریخ پیر کے دن کسی حساب سے نہیں آتی اور ان چار کے سوا کوئی صورت ممکن نہیں۔ اِن ممکنہ تاریخوں میں سے یکم ربیع الاول اور 2ربیع الاول کے اقوال بھی ملتے ہیں اور اعلیٰ حضرت اِن دونوں اقوال کو علم ہیات وزیجات کے حساب سے غلط ثابت کرنے کے بعد فرماتے ہیں، ”وہ دونوں قول (یکم اور دوم ربیع الاول کے) قطعاً باطل ہیں اور حق و صواب وہی قولِ جمہور بمعنی مذکو رہے یعنی واقع میں تیرھویں اور بوجہ مسطور تعبیر میں بارہویں۔“ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 صفحہ 426)یعنی مدینۂ طیبہ میں چاند نظر نہیں آیا تو اُن کے حساب سے بارہ ہوئی۔ اور راویوں نے وہی مشہور کردی لیکن چونکہ مکۂ معظمہ میں چاند نظر آگیا تھا واقع میں (یعنی حقیقت میں) تیرہ ربیع الاول۔ اور حقیقتاً 12ربیع الاول کسی حساب سے نہیں آتی، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ یہ ہے اعلیٰ حضرت کی تحقیق۔ علم ہیاٴت و زیج کے حساب بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی تحقیق یہی ہے کہ وفات شریف 12 نہیں بلکہ 13 تاریخ کو ہے چنانچہ میلاد شریف پر ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اگر ہیاٴت و زیج کا حساب لیتا ہے تو تاریخِ وفات شریف بھی بارہ نہیں بلکہ تیرہ ربیع الاول (ہے) کَمَا حَقَّقْنَاہُ فِیْ فَتَاوٰ نَا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 صفحہ 428) اور اگر بارہ ربیع الاول ہی تاریخِ وفات شریف ہو تو بھی میلاد شریف منانے سے روکنے کی کوئی دلیل نہیں۔ شریعت میں تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں صرف بیوہ کو شوہر کے لیے چار ماہ دس دن سوگ کرنے کا حکم ہے۔ غم پر صبر کرنا اور نعمت کا چرچا کرنا ہی مومن کی شان ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بھی جمعہ کے دن ہے اور وفات شریف بھی لیکن حدیث شریف میں جمعہ کے دن کو عید کا دن قرار دیا گیا ہے بلکہ مشکوٰۃ شریف باب الجمعۃ مین ابن ماجہ کے حوالے سے ایک حدیث روایت کی جس میں جمعہ کو عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی عظیم دن فرمایاگیا۔ حالانکہ اسی دن ایک نبی کی وفات بھی ہے، تو معلوم ہوا کہ غم پر صبر کرنا چاہیے اور پیدائش کا اعتبار کرتے ہوئے اس دن عید (خوشی) منانا چاہیے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”اگر مشہور کا اعتبار کرتا ہے تو ولادت شریف اور وفات شریف دونوں کی تاریخ بارہ ہے ہمیں شریعت نے نعمتِ الٰہی کا چرچا کرنے اور غم پر صبر کرنے کا حکم دیا، لہٰذا اس تاریخ کو روزِ ماتمِ وفات (وفات کے ماتم کا دن) نہ کیا روزِ سُرورِ ولادتِ شریفہ (ولادت شریف کی خوشی کا دن) کیا۔ کما فی مجمع البحار الانوار (جیسا کہ مجمع البحار الانوار میں ہے)۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 26، صفحہ 428
Aqaid-e-Ahle Sunnat
Saturday, January 21, 2012
Sunday, January 15, 2012
مسئلہ ایصال ثواب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم
زندوں کی عبادت ( بدنی و مالی) کا ثواب دوسرے مسلمان کو بخشنا جائز ہے جا کا ثبوت قرآن و حدیث اور اقوال فقہاء سے ثابت ہے۔ ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا قرآن و حدیث پر ایمان و عمل ہے اور پھر معتزلہ کی طرح ایصال ثواب کا انکار کرتے ہیں انہیں اپنی سوچ پر نظر ثانی اور ان دلائل پر غور کرنا چاہیئے ، میں بڑی محنت شاقہ سے کتاب میں حوالہ جات نقل کر دیئے ہیں انہیں پڑھنا ان پر غور کرنا اور پھر انصاف کرنا آپ کا کام ہے ۔ بقول انوار عزمی۔۔۔۔۔
کوئی منصف ہو تو انصاف کا چہرہ دمکے کوئی عادل ہو تو زنجیر ہلائی جائے
اگر آپ تعصب ، بغض ، حسد اور میں نہ مانوں کی عینک اتار کر آنے والے صفحات پڑھیں گے تو انشاء اللہ ضرور فائدہ ہوگا۔ ( راقم الحروف)
والذین جآءوا من بعدھم یقولون ربنا اغفرلنا الاخواننا الذین سبقونا بالایمان ط “ وہ جو ان کے بعد آئے وہ یوں دعا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے با ایمان گزر چکے ہیں ۔“
دنیا سے پردہ کرنے والوں کے حق میں زندوں کی دعا کا یہ کتنا واضح ثبوت ہے اور بھی کئی آیات ہیں مگر اختصار کے پیش نظر اسی پر اکتفاء کرتا ہوں ۔ حدیث پاک میں آتا ہے :
الدعاء مخ العبادۃ ۔ “ دعا عبادت کا مغز ہے۔“
ایک اور جگہ ہے۔
الدعاء ھو العبادۃ “ دعا عبادت ہے۔“
ثابت ہوا زندوں کی عببادت دنیا سے جانے والوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ حضرت امام جلالالدین سیوطی رحتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔
وقد نقل غیر واحدالاجماع علی ان الدعاء ینفع المیت و دلیلہ من القرآن قولہ تعالٰٰی والذین جاءوا ۔ ( الی الاخر) “ اور اس امر پر بہت سے علماء نے اجماع نقل کیا ہے کہ بے شک دعا میت کو نفع دیتی ہے
اور اس کی دلیل قرآن شریف میں اللہ تعالٰٰی کا یہ قول ہے ۔ ( مذکورہ آیت کریمہ والذین جاءوا) ( شرح الصدور ، ص 127)
شرح عقائد نسفی میں ہے :
وفی دعاء الاحیاء للاموات او صدقتھم عنھم نفع لھم خلافا للمعتزلۃ۔ “ زندوں کی دعا اور صدقے سے مردوں کو نفع پہنچتا ہے۔ معتزلہ اس کے خلاف ہیں ۔“
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من مات و علیہ صیام صام عنہ ولیہ۔ ( مسلم شریف) “ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مرنے والے کی ذمہ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے۔“
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ایک عورت نے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی کہ میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی مگر اس کا انتقال ہو گیا کیا میں اس کی طرف سے حج کرکے اس کی نذر پوری کر سکتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
قال حجی عنہا۔ ( بخاری) “ تم اس کی طرف سے حج کرو ۔“
فتاوٰی عزیزی میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
آرے زیارت و تبرک بقبور صالحین و امداد ایشاں بایصال ثواب و تلاوت قرآن ودعائے خیر و تقسیم طعام و شرینی امر مستحسن و خوب است۔ “ ہاں صالحین کی قبروں کی زیارت کرنا اور ان کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا اور ایصال چواب تلاوت قرآن دعائے خیف تقسیم طعام و شیرینی سے ان کی مدد کرنا بہت ہی خوب اور بہتر ہے
اور اس پر علمائے امت کا اجماع ہے۔‘ اور دیکھئے:
ما من رجل مسلم یموت فیقوم علی جنازتہ اربعون رجلالا تشرکون بااللہ شیئا الا شقعھم اللہ فیہ۔ ( ابو داؤد) “ اگر کسی مسلمان کی نماز جنازہ پر 40 آدمی ایسے کھڑے ہو جائیں جنہوں نے کبھی کسی کو اللہ تعالٰی کا شریک نہ ٹھرایا ہو تو ان کی شفاعت میت کے حق میں اللہ تعالٰی قبول فرماتا ہے۔ یعنی بخش دیتا ہے۔“
بخاری، مسلم اور مشکوٰۃ میں ہے:
“ دو قبر والوں پر عذاب ہو رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی ایک تر شاخ منگواہ کر آدھی ایک قبر پر اور آدھی دوسری قبر پر رکھ دی اور فرمایا جب تک یہ چاخیں ہری رہیں گی قبر والوں کے عذاب میں تحفیف رہے گی۔“
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد آپ نے تکبیر و تسبیح پڑھنی شروع کردی ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے تکبیر و تسبیح پڑھنے کے بابت پوچھا تو آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
قال لقد تضایق علٰی ھذا العبد الصالح قبرہ حتٰی فرجہ اللہ عنہ ( مشکوۃ) “ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ اس نیک آدمی پر قبر تنگ ہو گئی تھی یہاں تک کہ اب اللہ تعالٰی نے اس کی قبر کو فراغ کر دیا ہے۔“
فائدہ!
معلوم ہوا کہ زندوں کی عبادت سے اہل قبور کو فائدہ پہنچتاہے اور دفن کے بعد قبر کے پاس تسبیح وغیرہ ( کلام پاک) پڑھنا جائز ہے ۔ میت پر تین دن خاص کر سوگ کیا جاتا ہے ۔ بزرگوں نے فرمایا تین دن سوگ کیا ہے ۔ اب اٹھنے سے پہلے گھر کے چند افراد مل کر کچھ پڑھو کچھ صدقی کرو اوع اس کا ثواب میت کی روح کو پٔہنچا کراٹھو ۔ اس کا نام سوئم یا تیجہ ہو گیا ۔ ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔
شاہ عبد العزیز محدث دہلویملفوظات عزیزی ، ص 55 شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے تیجہ کے متعلق فرماتے ہیں۔ روز سوئم کثرت ہجوم مردم آں قدر بود “ کہ تیسرے دن لوگوں کے بیرون از حساب است بہشتاد ویک کا ہجوم اسقدر تھا کلام بشمار آمدہو زیادہ بہم شدہ یا شد کہ شمار سے باہر ہے ۔ وکلمہ سا حضر نیست اکیاسی کلام اللہ ختم ہوئے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوئے ہوں گے اور کلمہ طیبیہ کا تو ابدازہ ہی نہیں۔“
حضرت سعید بن منذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر استطاعت ہوتو تین دن میں قرآن ختم کرو۔ ( جامع صغیر)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن ہر مہینے ختم کرو ۔ انہوں نے پھر عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تین دن میں ختم کرو۔ ( بخاری جلد اول)
حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو جب حد زنا لگنے سے سنگسار کر دیا تو بعد از دفن جب دو دن یا تین گزر گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے جہاں صحابہ کرام بیٹھے تھے پس سلام کیا آپ نے اور بیٹھ گئے اور صحابہ کرام کو فرمایا کہ ماز بن مالک کی بخشش کی دعا کرو تو صحابہ کرام نے ماز بن مالک رضی اللہ عنہ کی مغفرت کی دعا مانگی۔ ( مسلم، جلد دوم) بفضلہ تعالٰی اہل سنت و جماعت کا یہی معمول ہے۔
ساتواں :
حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ بے شک مردے سات دن تک اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں تو صحابہ کرام سات روز تک ان کی جانب سے کھانا کھلانا مستحب سمجھتے تھے۔ ( شرح الصدور ابو نعیم فی الحلیہ) چناچہ شیخ المحدثین حجرت شاہ عند الحق محدچ دہلوی نے فرمایا وتصدیق کردہ شود از میت بعد رفتن اواز عالم تا ھفت روز۔ ( اشعتہ اللمعات شرح مشکوٰۃ) “ اور میت کے مرنے کے بعد سات روز تک صدقہ کرنا چاہیئے۔“
دسواں:
فرمایا دس دنوں میں قرآن ختم کرو۔ ( بخاری شریف، جلد اول)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے فرمایا دس دنوں میں۔ ( ابو داؤد مترجم جلد اول) لہذا قرآن پڑھ کر میت کو بخشنے میں کوئی حرج نہیں! چہلم:
دن مقرر ہونے کی وجہ سے احباب اکٹھے ہو کر میت کے لئے دعا و استغفار کرتے ہیں ۔ ایک حکمے یہ بھی ہے کہ عام لوگوں کے لئے تین دن سوگ ہے۔ مگر عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ چالیس روز تک سوگ کرے ۔ ہر عورت کے رشتہ دار اور اولاد وغیرہ اس کے غم میں شریک رہتے ہیں آخری دن کچھ پڑھ کر فاتحہ دلا کر اٹھتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
چالیس کا قرآن سے ثبوت:
واذ وعدنا موسٰی اربعین لیلۃ۔ ( سورہ بقرہ۔ آیت 50) “ اور جب ہم نے وعدہ دیا موسٰی کو چالیس رات کا“
اقراء القرآن فی اربعین۔ ( ترمذی شریف) “ قرآن مجید چالیس دنوں میں پڑھا کرو۔“
بزرگان دین فرماتے ہیں کہ میت کی روح کو چالیس دن تک اپنے گھر اور مقامات سےکاص تعلق رہتا ہے ۔ جو بعد میں نہیں رہتا۔ چناچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ مؤمن پر چالیس روز تک زمین کے وہ ٹکڑے جن پر وہ خدا تعالٰی کی عبادت و اطاعت کرتا تھا اور آسمان کے وہ دروازے جن سے کہ ان کے عمل چڑھتے تھے اور وہ کہ جن سے ان کی روزی اترتی تھی روتے رہتے ہیں۔ ( ثواب العبادات از خطیب پاکستان، بحوالہ شرح الصدور ، ص 24) اسی لئے بزرگان دین نے چالیسویں روز بھی ایصال ثواب کیا کہ اب چونکہ وہ خاص تعلق منقطع ہو جائے گا لہذا ہماری طرف سے روح کو کوئی ثواب پہنچ جائے تاکہ وہ خوش ہو جائیں اور ان سب کی اصل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سید الشھداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے لئے تیسرے، دسویں، چالسویں دن اور چھٹے مہینے اور سال کے بعد صدقہ دیا۔ ( کذا فی الانوار ساطقہ مغریا الی مجموعۃ الرویات حاشیہ خزانتہ الرویات)
چہلم کا ایک اور حوالہ
وقیل الٰی اربعین فان المیت یشوق الٰی بیتہ۔ “ اور فرمایا صدقہ دینا چالیس دن پس میت شوق رکھتی ہے ان دنوں اپنے گھر کا۔ ( شرح برزخ فیض الاسلام 5، ص 34، کتاب الوجیز، ص 64)
عرس۔ ۔۔۔ ( برسی)
حضرت یحیٰی علیہ السلام کے لئے ارشاد باری تعالٰی :
وسلام علیہ یوم ولد و یوم یموت و یوم یبعث حیا ہ ( سورہ مریم: آیت 15) “ اور سلامتی ہو اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا۔“
حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں:
والسلام علی یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیا ہ ( سورہ مریم: آیت 33) “ اور سلامتی ہو مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن اٹھوں گا، زندہ ہوکر۔“
تفسیر ابن جریر ( طبری) دیکھئے: حدیث بیان کی مثنٰی نے سوید سے کیا خبر دی ابن مبارک نے ابراہیم بن محمد سے انہوں نے سہیل بن ابھی صالح نے انہوں نے محمد ابراہیم سے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے جاتے شہدائ کی قبروں پر ہر سال پھر فرماتے: سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبٰی الدار۔ اور سیدنا صدیق اکبر اور فاروق اعظم اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھم اجمعین بھی اپنے زمانے میں ہر سال قبور شہداء پر جایا کرتے تھے ۔ ( تفسیر ابن جرید مطبوعہ مصر، جلد 13)
اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے کہ آپ ہر سال شہداء کی قبور پر تشریف لے جاتے اور فرماتے سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبٰی الدار اور اسی طرح چاروں خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اسی پر عمل پیرا رہے۔ ( تفسیر کبیر مطبوعہ مصر، جلد 5) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ تشریف لے جاتے ہر شروع سال مین قبور شہداء پر پس فرماتے : سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبٰی الدار ( تفسیر کشاف طبوعہ بیرون لبنان، جلد دوم) تفسیر کشاف کے حوالے کے بعد تو مخالفین کے انکار کی گنجائش نہیں رہنی چاہیئے۔
مخالفین کے ایک بڑے کا ایک حوالہ اور۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال شھدائے احد کی قبروں پر تشریف لے جاتے پھر فرماتے : سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبٰی الدار ۔ ( البدایہ و النہایہ مطبوعہ مصر، جلد سوم) سرور کائنات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر سال شہدائے احد کی قبور پر تشریف لے جاتے پھر چاروں خلفاء کا اپنے اپنے زمانہ میں اس سنت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل پیرا رہنا عرائس بزرگان دین کیلئے اتنی زبردست دلیل ہے جس کا رد نا ممکن ہے۔ ( گیارھویں شریف ، صائم چشتی) فاطمہ خزائیہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا اور آفتاب قبور شہداء پر غروب ہو چکا تھا اور میرے ساتھ میری بہن تھی۔ میں نے اس سے کہا آؤ قبر حمزہ رضی اللہ عنہ پر سلام کریں ۔ اس نے کہا ہاں پھر ہم ان کی قبر پر ٹھرے ۔ ہم نے کہا ۔ السلام علیک یا عم رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہم نے ایک کلام سنا کہ ہم پر رد کیا گیا ( یعنی لوٹایا گیا) وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ کہا کہ ہمارے قریب کوئی آدمی نہ تھا۔ ( اخرج البیہیقی) ( طی الفراسخ الٰی منازل البرازخ مطبوعہ آگرہ 1306 ھ ) ( سید ذوالفقار احمد وہابی تلمیذ سدیق حسن بھو پالی) دیوبندی حضرات اور اہل حدیث حضرات مذکورہ حوالہ جات پر ضرور غور فرمائیں ۔ اور ہمارے ساتھ مل کر دنیا سے کوچ کر جانے والوں کے لئے ایصال ثواب کرکے ان کی مدد کریں۔ ایصال ثواب کے متعلق ضروری وضاحت
ایصال ثواب کے عمل میں دکھاوا اور ریاکاری نہیں کرنی چھاہیئے۔ اگر ایصال ثواب کا مقصد نمود و نمائش ہے تو اس کا ثواب حاصل نہ ہوگا ۔ اور ایسا دکھاوے کا عمل حرام اور گناہ ہے ۔ عام طور پر بہت سے لوگ قرض لیکر میت کے لئے ایصا ل ثواب کرتے ہیں۔ اور عام لوگوں کو دعوتیں دیتے ہیں ۔ شریعت میں ایسی دعوتوں کی اجازت نہیں ۔ میت کے ایصال ثواب کے لئے جو کھانا ہے وہ حسب استطاعت ہو اور اسے مستحق اور غریبوں لوگوں کو کھلایا جائے۔ ( صاحبان حیثیت حضرات کو اس کھانے سے اجتناب کرنا چاھیئے۔) اسی طرح بعض گھروں میں ایصال ثواب کے موقع پر دس بیبیوں کی کہانی، شہزادے کا سر، داستان عجیب اور جناب سیدہ کی کہانی وغیرہ پڑھی جاتی ہیں۔ جن کی کوئی اصل نہیں اسی طرح ایک پمفلٹ : وصیت نامہ“ جس میں “ شیخ احمد“ کا خواب درج ہے۔ اسے بھی علمائے کرام نے خود ساختہ قرار دیا ہے۔ ان چیزوں سے بچیں۔ مزید تفصیل کے لئے ممتاز اسلامی اسکالر جناب ڈاکٹر نور احمد شاہتاز صاحب کی کتاب کڑوی روٹی کا مطالعہ فرمائیں۔
نوٹ:
بزرگان دین کی فاتحہ وغیرہ کا کھانا اور چیزہے یہ تبرک ہے اور اسے امیر لوگ بھی کھا سکتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رھمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ واگر فاتحہ بنام بزرگے دادہ شود اغنیا را ہم خور دن جائز است۔ (ربدۃ النصائح،ص 132) “ اور اگر کسی بزرگ کی فاتحہ دی جائے تو مالداروں کو بھی کھانا جائز ہے۔
مسئلہ حاضر و ناظر پر ایک عملی و تحقیقی نظر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نور الٰہ کیا ہے ؟ محبت حبیب کی! جس دل میں یہ نہ ہو وہ جگہ خوک و خر کی ہے
معلم کائنات محسن انسانیت رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا مالک و مختار، غیب داں اور حاضر و ناظر ہونا اہل اسلام کے نزدیک ہمیشہ سے مسلم رہا ہے مگر وہ لوگ جو ہمارے معاشرہ میں ایک خودرو پودے کی طرح برآمد ہو گئے ہیں اور ہمارے مستند ماضی سے کٹ کر اپنا الگ تھلگ وجود رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ سے آقائے کریم علیہ التحیۃ التسلیم کے فضائل و مناقب بیان کرنے کی بجائے ذات والا صفات کے اندر معائب و نقائص کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔ حد یہ کہ وہ چیزیں جن کی پشت حقانیت پر صدیوں کی بوجھل شہادتیں ہوتی ہیں انھیں یک لخت نظر انداز کرکے امت کے مزاج اتحاد کو برہم و برگشتہ کرکے انتشار و تشکیک کی بھیانک فضا قائم کر دیتے ہیں۔ اس پر لطف یہ کہ خود کو “اتحادی“ کہتے بھی نہیں تھکتے۔ ایسے ہی مسائل میں سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا حاضر و ناظر ہونا بھی ہے۔ آئیے تعصب کی عینک اتار کر، مذہبی چپقلش بالائے طاق رکھ کر اور چشم انصاف وا کرکے اس مسئلہ کی نوعیت کا جائزہ لیا جائے۔ واللہ ہوالموقف الٰی سبیل الرشاد ۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی شخصیت اب کسی تعارف کی محتاج نہ رہی، سر زمین ہند پر اشاعت حدیث کے سلسلے میں آپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان کے حنفی انھیں کے طفیل میں حنفی ہیں، آپ نے اپنی مشہور کتاب “مسلوک اقرب الشبل“ میں تحریر کیا ہے کہ : باچندیں اختلاف و کثرت مذاہب کہ در علمائے امت است یک کس رادیں مسئلہ خلافے نیست کہ آں حضرت بحقیقت حیات بے شائبہ مجازو تو ہم تاویل دائم و باقی است و براعمال امت حاضر و ناظر و مرطالبان حقیقت رادمتو جہان آنحضرت را مفیض و مربی۔ یعنی علمائے امت میں اتنے اختلافات اور مذاہب کی کثرت کے باوجود اس مسئلہ میں ایک شخص کا بھی اختلاف نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بغیر شائبہ مجاز اور بلا کسی توہم تاویل حقیقی زندگی کے ساتھ دائم و باقی ہیں۔ امت کے احوال پر حاضر و ناظر ہیں، طالبان حقیقت اور آپ کی طرف توجہ خاص کرنے والوں کو فیض بخشنے والے اور تربیت دینے والے ہیں۔
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے: یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا و مبشرا و نذیرا۔ (احزاب45) اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بےشک ہم نے تمھیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔ (کنزالایمان) لفظ شاہد شہود سے مشتق ہے اور شہود حضور ہے۔ شاہد مشاہدہ سے ہے اور مشاہدہ رویت سے۔ تو ہو بےکس شاہد ہیں، بےشک حاضر ہیں۔ بےشک ناظر ہیں۔ دعائے میت میں جو لفظ “شاھدنا“ آتا ہے وہ اسی شہود سے مشتق ہے جس کے معنی حاضر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد پھر “غائبنا“ کہا جا رہا ہے۔ یا یہ شہادت سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں گواہی دینا اس مادہ سے شاہد کے معنی گواہی دینے والا ہوا۔ بہر تقدیر شاہد حاضر و ناظر اور گواہ تین معنوں کے درمیان محصور ہوا اور ہر تقدیر پر نبی اکرم کا حاضر و ناظر ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ شاہد کا معنی گواہ لینے کی صورت میں بھی ہمارا مقصود حاصل ہے، کیونکہ شریعت مطہرہ میں دیکھی ہوئی چیزوں ہی کی گواہی مقبول ہے، ان دیکھی کی مردود۔
طبرانی، معجم کبیر، میں نعیم بن حماد، کتاب الفتن میں اور ابونعیم دلائل میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا والی ماھو کائن فیھا الٰی یوم القیامۃ کانما النظر الی کفی ھذہ جلیانا من اللہ جلاۃ لی کما جلاۃ للنبیین من قبلی۔ بےشک اللہ نے میرے سامنے دنیا اٹھائی تو میں دیکھ رہا ہوں دنیا اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسا جیسا کہ اپنی اس ہتھیلی کو دیکھتا ہوں یہ اللہ کی طرف کی روشنی ہے جو اس نے میرے لئے کی ہے جیسے مجھ سے پہلے انبیاء کے لئے کی تھی۔
جامع ترمذی و سنن دارمی وغیرہما کتب معتبرہ میں بروایات صحیحہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل دس جلیل القدر صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتانی ربی فی احسن صورۃ فقال لی یامحمد فیمر یختصھا الملاء الاعلٰی۔ میرا رب میرے پاس تشریف لایا جو عقول سے وراء الورا اور اس کی جلالت و عزت کے شایان شان ہے اور اس وقت میں سب سے بہتر حال میں تھا اس نے فرمایا اے محمد! ملا اعلٰی باہم کس بات میں مباہات کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی اے میرے رب تو خوب جانتا ہے۔ فوضع یدہ بین کتفی فوجدت بردھا بین ثدی۔ اس نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا، اس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی۔ اس ہاتھ رکھنے سے کیا ہوا، فرماتے ہیں : فعلمت مافی السمٰوت والارض۔ پس میں نے زمین و آسمان کی ساری چیزیں جان لیں۔ فعلمت مابین المشرق والمغرب اور میں نے مشرق و مغرب تک کی جملہ اشیاء معلوم کر لیں۔ فتجلٰی لی کل شیء و عرفت۔ تو ہر چیز مجھ پر روشن ہو گئی اور انھیں میں نے اچھی طرح پہنچان لیا۔
حضور کے ایک چہیتے غلام غوث الانام شیخ عبدالقادر جیلانی کی شان ملاحظہ کیجئے فرما رہے ہیں: السعداء والا شقیاء یعرضون علی وان عینی فی اللوح المحفوظ ۔ بےشک تمام سعید و شقی مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں اور بےشک میری آنکھ لوح محفوظ میں ہے۔ نیز “قصیدہء غوثیہ“ شریف میں فرماتے ہیں:
نظرت الٰی بلاد اللہ جمعا کخردلۃ علی حکم اتصال میں نے اللہ کے تمام ملکوں کو ایسا دیکھا جیسے وہ سب مل کر میرے سامنے رائی کے ایک دانہ کے برابر ہوں۔
حضرت شیخ بہاءالحق والدین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ نے فرمایا۔ مردوہ ہے کہ تمام روئے زمین اس کے سامنے دسترخوان کے مثل ہو۔ شیخ موصوف فرماتے ہیں: مگر میں کہتا ہوں کہ مردوہ ہے کہ تمام روئے زمین اس کے سامنے ناخن کے برابر ہو۔ جب مختار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کی یہ شان ہے تو پھر آپ کا کیا کہنا! بلاشبہ آپ حاضر و ناظر ہیں یارسول اللہ۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ وجئنا بک علٰی ھولاء شھیدا۔ (نساء،41) اور اے محبوب تمھیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں گے۔ (کنزالایمان) بارگاہ الٰہی میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہی کی گواہی پر مقدمہ کا فیصلہ ہو جائے گا اور حضور پر کوئی جرح و قدح ہرگز نہ ہوگا کیوں کہ حضور کی گواہی دیکھی ہوئی چیزوں اور مشاہدہ کی ہوئی باتوں ہی میں ہو گی، جو بہرحال قطعی ہوگی تو ثابت ہوا کہ حضور حاضر بھی ہیں ناظر بھی۔ ولکن الظلمین بایات اللہ یحجدون
اللہ تعالٰی فرماتا ہے: ویکون الرسول علیکم شھیدا۔ (بقرۃ: 143) اور یہ رسول تمھارے نگہبان و گواہ۔ (کنزالایمان) صاحب روح البیان اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ومعنی شھادۃ الرسول علیھم الملاعۃ علی رتبۃ کل متدین بدینۃ وحقیقۃ التی ھو علیھا من دینہ وحجابہ الذی ھو بہ محجوب عن کمال دینہ فھو یعرف ذنوبھم وحقیقۃ ایمالھم واعمالھم وحسناتھم وسیاتھم واخلاصھم ونفاقھم وغیر ذلک بنورالحق۔ یعنی مسلمانوں پر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے یہ معنی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہر دین دار کے دین کے مرتبوں پر اور اپنے دین میں سے جس حقیقت پر وہ ہے اس پر اور وہ حجاب جس کے سبب دین کے کمال سے محجوب ہو گیا ہے سب پر مطلع اور خبردار ہیں تو وہ امت کے گناہوں، ان کے ایمان کی حقیقتوں، ان کے اعمال، ان کی نیکیوں، برائیوں اور ان کے اخلاص و نفاق سب کو نور حق کے ذریعہ جانتے پہچانتے ہیں۔ (روح البیان، ص،248ج1)
یہاں یہ ایمانی نکتہ ارباب فکر و نظر کی کھلی دعوت دیتا ہے کہ ایمان و عقیدہ اور اخلاص و نفاق ایسے افعال ہیں جن کا تعلق دل کی دنیا سے ہے اور حضور ان پر بھی اطلاع رکھتے ہیں کہ کون مومن ہے اور کون منافق! مومن تو ہے مخلص ہے یا نہیں، اس کے ایمان کا درجہ کیا ہے ؟ ترقی کرنے سے رک جانے کا سبب کیا ہے؟ منافق ہے تو کس درجہ کا نفاق رکھتا ہے، نفاق کے چنگل سے وہ نکل بھی سکتا ہے یا نہیں، نکلے تو کس طرح ؟ اور نہیں نکلے گا تو اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس سے بڑھ کر حاضر و ناظر کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے ؟
صاحب عقل کو کافی ہے اشارے کی زباں ورنہ سو بار دلائل بھی ہے بیکار و عبث
ممکن ہے منقصت جو حضرات تفسیر روح البیان کو معتبر و مستند سمجھتے ہوں تو پھر اپنے گھر ہی کی شہادت ملاحظہ کریں۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی مذکورہ بالا آیت کے ذیل میں بالکل یہی تفسیر بیان فرما رہے ہیں: ویکون الرسول علیکم شھیدا۔ تمھارے رسول تم پر گواہ ہوں گے کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نور نبوت کے سبب اپنے دین پر ہر چلنے والے کے رتبہ سے واقف ہیں کہ حضور کے دین میں اس کا کتنا درجہ ہے اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے اور جس پردہ کے سبب وہ ترقی سے رک گیا ہے وہ کونسا پردہ ہے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تم سب کے گناہوں، تمھارے ایمانی درجوں، تمھارے تمام اچھے برے کاموں اور تمھارے اخلاص و نفاق سب سے آگاہ ہیں کہ تم میں جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، مسلمانوں کے جیسے اعمال کرتا ہے وہ آیا دل سے مسلمان ہے یا فقط ظاہر میں مسلمان بنتا ہے اور بباطن منافق ہے اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شہادت دنیا و آخرت میں بحکم شرع امت کے حق میں مقبول اور واجب العمل ہے۔
حدیث شریف میں ہے: کل نبی آدم خطاء وخیر الخطائین التوابون۔ ہر انسان (ما سواانبیاء و اولیاء) خطاکار ہے اور خطاکاروں میں بہتر توبہ کرنے والے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انبیاء عظام و اولیائے کرام کے علاوہ سارے انسان خطاوار ہیں اور توبہ کرنے والے ان میں سب سے اچھے ہیں اور قرآن کریم میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے: وتوبوا الی اللہ جمیعا ایھا المؤمنون لعلکم تفلحون (نور 31) اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ (کنزالایمان) اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان پر توبہ و استغفار فرض ہے اور شریعت مطہرہ کے نزدیک توبہ و استغفار میں جلدی کرنا محمود و پسندیدہ ہے۔ چنانچہ باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں: عجلوا بالتوبۃ قبل الموت، توبہ میں جلدی کرو اس سے پہلے کہ تمھیں موت آلے۔ اور توبہ کرنے کا طریقہ قرآن کریم نے اس طرح بتایا ہے۔ ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاوک فاستغفر واللہ واستغفرلھم الرسول لو جدوا اللہ توابا رحیما۔ (نساء: 64) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمھارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ کرنے والا مہربان پائیں اس آیت پاک میں قبولیت توبہ کی تین شرطیں بیان کی گئی ہیں ان میں شرط اول “جاؤک“ ہے یعنی اے محبوب! تمھاری بارگاہ بیکس پناہ میں حاضر ہوں۔ اب اگر منکرین عظمت رسالت کے عقیدے کے مطابق حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو حاضر و ناظر نہ مانا جائے، مدینۃ الرسول میں محصور و مقید اور روضہء اقدس کے اندر ہی تشریف فرما تسلیم کر لیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ سارے مسلمان بدستور خطاکار و گنہگار ہی ہیں ان کی توبہ کی کوئی راہ نکل ہی نہیں سکتی کیونکہ مسلمان دنیا کے چپے چپے میں پھیلے ہوئے اور فرش گیتی کے ہر حصہ پر آباد ہیں۔ جن میں بیشتر غرباء ہی ہیں حدیث پاک میں وارد ہوا۔ بدء الاسلام غریبا وسیعود کما بدا فطوبی للغرباء۔ اسلام غریبوں میں شروع ہوا اور جس طرح شروع ہوا اسی طرح عنقریب لوٹ بھی جائے گا۔ (یعنی اخر زمانہ میں اسلام صحیح معنوں میں غریبوں کے اندر ہی ہوگا) تو غریبوں کو مژدہ۔ اس زمانہ میں جب کہ بیشتر دین دار مسلمان غریب ہی نظر آتے ہیں تو اکناف عالم سے سفر کرکے مدینہ پہنچنا ان سے کیوں کر متصود ہو سکتا ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ غریب مسلمانوں کے اندر حاضری طیبہ کی استطاعت ہی نہیں اور اہل دل مضرات مستطیع تو ہیں مگر اس کی کیا گارنٹی کہ سلامتی کے ساتھ وہ مدینہ پہنچ ہی جائیں گے۔ راستہ ہی میں کہیں جان گنوا بیٹھے تو گویا بے توبہ و گنہگار ہی مرے۔ اور اگر ایک مرتبہ چلے بھی گئے تو اس کی کہا ذمہ داری کہ اب آئندہ ان سے گناہوں کا صدور نہ ہوگا جب کہ ابھی دو چند سطر اوپر آپ پڑھ آئے ہیں کہ انسان خطا و نسیان سے مرکب ہے تو اب پھر مدینہ جائیں اور واپس آئیں اور اگر راستہ ہی میں کوئی گناہ ہو گیا تو وہیں سے لوٹیں اور پھر مدینہ حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش چاہیں۔ اسی طرح آتے جاتے رہیں نتیجتاً مالدار بھی ہو ایک روز فقیر ہو جائے گا اور مدینہ کی حاضری سے محروم ہو جائے گا۔اب یہ مالدار اور دیگر غریب مسلمان کیا کریں ؟ کہاں جائیں ؟ اور سامان بخشش کیسے ہو ؟ گویا توبہ کرنے کے فرمان الٰہی پر عمل کرنا خارج از استطاعت ہوا حالانکہ قانون قدرت ہے: لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا مطلب یہ ہوا کہ کوئی توبہ کر ہی نہیں سکتا پھر توبہ کرنے کا یہ حکم: توبوا ابی اللہ جمیعا۔ اور توبہ کرنے کا طریقہ کہ جاؤک اور آیت کریمہ: لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا اور اس مضمون کی سینکڑوں آیات اور توبہ و استغفار کی ساری حدیثیں منکرین کے دھرم کے مطابق بےکار و بےفائدہ ہو جائیں گی بالآخر نبی کو ہر جگہ حاضر و ناظر ماننا ہی پڑے گا، ان صورت میں تمام اشکال و اغراض بھی جاتے رہے اور آیات و احادیث میں سے کسی کا انکار بھی نہیں لازم آتا وہ یوں کہ جب کسی مسلمان سے بہ تقاضائے بشریت کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو فوراً توبہ کرے اور بارگاہ خداوندی میں یوں عرض کرے کہ خداوند! میں شرم سارانہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور عہد کرتا ہوں کہ آئندہ ارتکاب معاصی سے بچوں گا۔ علیک الصلوٰۃ والسلام یارسول اللہ! آپ تو حاضر و ناظر ہیں اگرچہ میں شامت اعمال کے باعث سرکار دو جہاں کے رخ انور کو نہیں دیکھ رہا مگر حضور تو موجود ہیں فقیر بےنوا کے لئے بارگاہ الٰہی میں دو جملے عرض کر دیں کہ خداوند! اب تو تیرا مجرم میرے دامن رحم و کرم میں اقبال جرم کرتا پناہ لیتا ہے اب تو اس کے گناہوں سے درگزر فرما اور “حدائق بخشش“ کے چند پھول اسے مرحمت فرما دے۔ یہ ایسا طریقہ توبہ ہے جس سے نہ تکلیف مالا یطاق لازم آتی ہے، نہ آیات و احادیث کا انکار اور نہ ہی کسی قسم کا کفر و ارتداد اور اس صورت میں ساری شرطیں بھی پوری ہو جاتی ہیں اور قاعدہ یہ ہے کہ تمام شروط کے بعد مشروط کا وجود ضروری ہے چنانچہ اب قرآن فرمائے گا: لوجدوا اللہ توبا رحیما۔ تم یقیناً اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاؤ گے۔ مجرم بالانے آئے ہیں جاؤک ہے گواہ: پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے۔
تمام مسلمانوں کا متفقہ اور مسلمہ مسئلہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اللہ کی ذات و صفات کے مظہر اتم ہیں اور یہی فرمان رسول سے بھی مترشح ہے: من رانی فقدرا الحق جس نے مجھے دیکھا اس نے خدا کو دیکھا اور اللہ تعالٰی کی صفتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ : انا جلیس من ذکرنی۔ جو مجھے یاد کرے میں اس کا جلیس ہوں یعنی اس کے پاس ہی ہوں اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بھی بعطائے الٰہی اس صفت سے موصوف ہوئے یعنی حضور کی بھی یہی صفت کی گئی کہ: ھو جلیس من ذکرہ۔ یعنی جو حضور کو یاد کرے حضور اس کے پاس ہیں۔ کھلے کیا راز محبوب و محب مستان غفلت پر شراب قدر الحق زیب جام من رانی ہے
چنانچہ شیخ محقق حضرت مولانا عبدالحق محدث دہلوی اپنی شہرہ آفاق کتاب “مدارج النبوۃ“ میں فرماتے ہیں چونکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم متصف باخلاق اللہ ہیں تو جس جگہ حضور کا ذکر مبارک ہوگا وہاں حضور کی تشریف آوری بھی ہو گی۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو یاد کرنے والے اور آپ کے نام پر جان چھڑکنے والے ساری دنیا میں خدا معلوم کتنے اور کتنی مختلف جگہوں پر ہیں اور حضور ہر جگہ رونق افروز ہوتے ہیں تو آن واحد میں کروڑوں لاکھوں بلکہ اس سے زیادہ جگہوں پر حضور کا حاضر و ناظر ہونا اس حدیث پاک سے ثابت ہوا۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم۔ (نور: 61) پھر جب کسی گھر میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو۔ (کنزالایمان) امام قاضی عیاض “شفا شریف“ میں فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے تلمیذ شید امام اجل حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ تعالٰی عنہم اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ان لم یکن فی البیت احد فقل السلام علی النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تو یوں کہو کہ نبی کریم پر سلام اور اللہ کی بےشمار رحمت و برکت نازل ہو۔
حضرت ملا علی قاری حنفی شرح شفا شریف میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کی دلیل یہ بیان فرماتے ہیں: لان روحۃ علیہ الصلوٰۃ والسلام حاضرہ فی بیوت اصل السلام۔ یعنی یہ اس لئے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک تمام جہان میں ہر مسلمان عاشق رسول کے گھر میں تشریف فرما ہے۔ ان اقوال سے صاف معلوم ہوا کہ حضور بلاشبہ حاضر و ناظر ہیں اور لمحہ لمحہ ہماری خبر رکھتے ہیں۔
سنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں مرے گھر میں بھی ہو جائے چراغاں یارسول اللہ
اللہ تعالٰی فرماتا ہے: وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔ (انبیاء:107) اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے۔ اور اللہ رب العزت نے اپنی شان میں رب العالمین فرمایا ہے۔ یعنی جن جن والم جہان کا پالنے والا اللہ ہے انھیں عالم جہان کے لئے حضور بھی رحمت ہیں۔ رحمت ہر شے کے لحاظ سے الگ الگ ہوتی ہے ایک ہی چیز ایک کے لئے رحمت ہے تو دوسرے کے لئے سامان زحمت بن جاتی ہے تو گویا اس بات کا علم ضروری ہوا کہ کون سی چیز کسی کے لئے کس وقت اور کس حد تک رحمت ہو گی مثلاً نزول باران رحمت ہے لیکن ضرورت سے کم و بیش ہونے کی صورت میں یہی بارش خرابی کا باعث بن جاتی ہے لٰہذا حضور کا ہر ہر ذرے کے جملہ حالات و کیفیات اور لوگوں کی نفسیات سے آگاہ ہونا ضروری ہوا ورنہ آیت مذکورہ کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے اور حاضر و ناظر کے یہی معنی ہیں۔ قارئین کرام کی عدالت میں عرض کر دوں کہ یہ مسئلہ اگرچہ ایسا قطعی نہیں کہ جس سے منکر کی تضلیل و تکفیر ہو سکے تاہم منکرین حضرات جنھیں عظمت رسول سے چڑ ہے وپ اپنی اس نبی دشمنی اور خبث باطنی کی وجہ سے ضرور کافر و مرتد ہیں اور بےتوبہ مرے تو مستحق عذاب کے سزا وار ہوئے۔
املئن جھنم تھا وعدہ ازلی نہ منکروں کا عبث بدعقیدہ ہونا تھا
امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے شفا شریف میں ایک دستور بیان فرما دیا ہے کہ نبی کی شان میں گستاخی موجب کفر ہے۔ فرماتے ہیں: اجمع المسلمون علی ان شاتمہ کافر ومن شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔ یعنی تمام مسلمانوں کا اجماعی فیصلہ ہے کہ حضور کی شام والا میں گستاخی کرنے والا اور آپ کا دشنام طراز کافر ہے اور جو شخص اس کے کفر پر مطلع ہو کر اس کے کافر و مستحق نار ہونے میں شک کرے وہ بھی یقیناً کافر ہے۔ باللہ العیاذ والیہ الملاذ۔
رہ گئی بات حضور کے حضور جسمی کی تو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی یہ رحمت عام نہیں خاص ہے۔ قداریں بادہ نہ دانی بخداتانہ چشی
مخصوص اولیائے امت پر سرکار کرم فرماتے ہیں اور وہ ہر آن، ہر ساعت حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اپنی چشمان سر سے ملاحظہ کرتے ہیں۔ عارف باللہ امام عبدالوہاب شعرانی “میزان الشریعۃ الکبرٰی“ میں فرماتے ہیں: قد بلغنا من الشیخ ابی الحسن الشاذلی وتلمیذہ شیخ ابی العباس المرس وغیرھما انھم کانوا یقولون لو احتجبت عنا رؤیۃ رسول اللہ طرقۃ عین ما اعددنا انفسنا من جمللۃ المسلمین فاذا کان ھذا قول احاد الاولیاء فالائمۃ المجتھد ون اولٰی بھذا المقام۔ شیخ ابوالحسن شاذلی اور ان کے شاگرد شیخ ابوالعباس مرسی اور ان کے سوا اور لوگوں سے مجھے یہ خبر پہنچی ہے یہ حضرات کہا کرتے تھے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا دیکھنا پلک جھپکنے کے برابر بھی ہم سے پوشیدہ ہو جائے تو ہم اپنے آپ کو مسلمانوں میں سے نہ سمجھیں۔ (امام شعرانی فرماتے ہیں) جب ایک ولی کا یہ قول ہو تو پھر ائمہ مجتہدین بدرجہ اولٰی اس مقام کے زیادہ لائق ہیں۔
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے پر دلائل و شواہد قرآن وحدیث کی روشنی میں اختصار کے ساتھ ہم نے پیش کر دئیے۔ دل اگر تنقیص رسول کے ازار میں مبتلا ہیں تو اتنا بہت ہے مگر منکرین جنہیں صرف انکار کی سوجھی رہتی ہے اور عظمت مصطفٰی کی باتیں جنہیں ایک نہیں بھاتیں ان سے کچھ بعید نہیں کہ ان دلائل کا بھی انکار کر دیں لٰہذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان شپرہ چشموں کے آگے انھیں کے یہاں کے اقوال پیش کر دیں۔ یہ دیکھئے بانی مدرسہ دیوبند مولوی قاسم نانوتوی اپنی کتاب “آب حیات“ کے، ص127، 128 پر فرماتے ہیں: آیت کریمہ: النبی اولی بالمومنین من انفسھم کی کل تین تفسیریں ہیں (1) اقرب الی المومنین من انفسھم (2) احب الی المومنین من انفسھم۔ (3) اولی بالتصرف فی المومنین من انفسھم ان تینوں تفسیروں کو غور سے دیکھئے تو دو اخیر کی تفسیریں ایک اول ہی کی طرف راجع ہیں۔
یعنی حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہیں اور دو اخیر کی تفسیریں بھی اول ہی کی طرف راجع ہیں یعنی ان کا بھی یہی مطلب نکلتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہم سے اتنے قریب ہیں کہ ہماری جانوں کو بھی ہمارے ساتھ وہ قرب حاصل نہیں اس سے بہتر حضور کے حاضر و ناظر ہونے کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ مخالف نے خود ہی اپنی نوک قلم سے ہمارے مسلک کا اعتراف حق کر لیا۔ ایسا ممکن ہے کہ منکرین کی “آب حیات“ کی اس عبارت پر نظر پڑی ہو ورنہ وہ کبھی اپنے مولوی کا خلاف نہیں کرتے اور حاضر و ناظر کے مسئلہ پر کفر و شرک کی رٹ نہ لگاتے
وہابی گرچہ اخفامی کند بغض نبی لیکن نہاں کے ماندآں رازے کزوسازند محفلہا
یہ دیکھئے بزرگ مذکور کی دوسری رسوائے کتاب “تحذیر الناس“ جس کے صفحے 11 پر مذکور ہے۔ “النبی اولی بالؤمنین من انفسھم کو بعد لحاظ صلہ من انفسھم دیکھئے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اپنی امت کے ساتھ وہ قرب حاصل ہے کہ ان کی جانوں کو بھی ان کے ساتھ حاصل نہیں کیوں کہ اولٰی بمعنی اقرب ہے اور اگر بمعنی ادب یا اولٰی بالتصریف ہو تب بھی یہی بات لازم آئے گی کیونکہ اجنیت و اولویت بالتصوف کے لئے اقربیت تو وجہ ہو سکتی ہے پر برعکس نہیں ہو سکتا“ اسے کہتے ہیں سحر صداقت جو سر چڑھ کر بولتا ہے یعنی اولٰی بمعنی احب لوجب بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم حاضر و ناظر، اور اگر اولویت بالتصوف لو جب بھی حضور حاظر و ناظر۔ یہ حق ہے جو اپنے دشمنوں سے بھی اپنی حقانیت منوا لیتا ہے۔ الحق یعلو ولا یعلٰی۔ نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عیب داں اور حاضر و ناظر ہونے کے ثبوت میں اکابر امت اور اجلہ صوفیہ کی روشن عبارتوں کا سلسلہ فلک عشرۃ کاملۃ پر پہنچ کر تمام ہوا۔ ماننے والوں کے لئے اتنے حوالے بھی بہت کافی ہیں اور جو لوگ شقاق و نفاق کے مرض میں مبتلا ہیں انہیں کوئی دلیل بھی مطمئن نہیں کر سکتی۔
اخیر میں انتہائی قلق کے ساتھ شکوہ کرتا ہوں کہ منکرین عظمت رسالت نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اپنے عوام کو اتنا جری اور گستاخ بنا دیا ہے کہ وہ لوگ حضور کی عظمت و شوکت پر زبان طعن دراز کرتے ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے کہ وہ امتی ہو کر اپنے ہی نبی کے خلاف زبان کھول رہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی نامراد قوم ہو گی جس نے اپنے مذہبی پیشوا کی شان گھٹا کر اپنے جذبے کی تسکین فراہم کی ہو، خدا ایسے شقی القلب لوگوں کے شر سے امت کے پاک طینت افراد کو محفوظ رکھے۔ آمین
ندائے “ یارسول اللہ “ کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سوال:- زید موحد مسلمان جو خدا اور رسول کو رسول جانتا ہے، نماز کے بعد اور دیگر اوقات میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بکلمہ “ یا “ ندا کرتا ہے اور “ الصلوۃ و السلام علیک یارسول اللہ و اسئلک الشفاعۃ یارسول اللہ “ کہتا ہے، یہ کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور جو لوگ اسے اس کلمہ کی وجہ سے کافر و مشرک کہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ بینو بالکتاب و توجر و ایوم الحساب۔
الجواب:- بسم اللہ الرحمن الرحیم ہ الحمدللہ وکفی الصلوۃ و السلام علی حبیبہ المصطفی والہ واصحبہ اولی الصدق والصفا۔
کلامت مذکورہ بےشک جائز ہیں، جن کے جواز میں کلام نہ کرے گا مگر سفیہ، جاہل یا ضال مضل۔ جسے اس مسئلہ کے متعلق قدرے تفصیل دیکھنی ہو، “ شفاءالسقام “ امام علام بقیۃ المجتہدین الکرام تقی الملۃ والدین ابو الحسن علی سبکی، و “ مواہب لدنیہ “ امام احمد قسطلانی شارح بخاری و شرح مواہب علامہ زرقانی شرح مشکوۃ، و “ جذب القلوب الی دیار المحبوب “ و “ مدارج النبوۃ “ تصانیف شیخ عبدالحق محدث دہلوی۔ و افضل القری شرح ام القرٰی امام بن حجر مکی وغیرہا کتب و کلام علمائے کرام و فضلائے عظام علیہم رحمۃ العزیز العلام کی طرف رجوع لائے۔ یا فقیر کا رسالہ “ الاھل بفیض الاولیاء بعد الوصال “ مطالعہ کرے۔
احادیث سے نداء کا ثبوت
یہاں فقیر بقدر ضرورت چند کلمات اجمالی لکھتا ہے۔ حدیث صحیح مذیل بطراز گر انبہائے تصحیح جسے امام نسائی و امام ترمذی و ابن ماجہ و حاکم و بہیقی و امام الائمہ انم خزیمہ و امام ابوالقاسم طبرانی نے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ترمذی نے حسن غریب صحیح اور طبرانی و بیہقی نے صحیح اور حاکم نے برشرط بخاری و مسلم صحیح کہا اور امام عبدالعظیم منذری وغیرہ ائمہ و تنقیح نے ان کی تصحیح کو مسلم و مقرر رکھا جس میں حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایک نابینا کو دعاء تعلیم فرمائی کہ بعد نماز یوں کہے “ اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بل الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم فشفعۃ فی ( ترمذی شریف۔ ج2ص197، امین کمپنی دہلی ) الٰہی ! میں تجھ سے مانگتا اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں بوسیلہ تیرے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مہربانی کے نبی ہیں، یارسول اللہ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہوں کہ میری حاجت روا ہو، الٰہی ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
امام طبرانی کی معجم میں یوں ہے: ان رجلا کان یختلف الی عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ فی حاجۃ لہ وکان عثمان لا یلتفت الیہ ولا ینظر فی حاجۃ فلقی عثمن بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ ائت المیضاۃ فتو ضا ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قال اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبینا نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بل الٰی ربی فیقضی حاجتی و تذکر حاجتک ورح الٰی اروح معک، فانطلق الرجل فصنع ما قل لہ ثم اتی باب عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ فجاء البواب حتی اخذہ بیدہ فادخلہ علی عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ فاجلسہ معہ علی الطنفسۃ وقال حاجتک فذکر حاجتہ فقضاھا ثم قال ما ذکرت حاجتک حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکان لک من جاجۃ فانتنا ثم ان الرجل خرج من عندہ فلقی عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ فقال لہ جزاک اللہ خیرا بما کان ینظر فی حاجتی ولا یلتفت الی حتی کلمۃ فی فقال عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ واللہ ما کلمۃ ولکن شھدت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ائت المیضاۃ فتوضا ثم صلی رکعتیں ثم ادع بھذہ الدعوات فقال عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ فواللہ ما تفرقنا وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضرقط ( معجم صغیر ص103 )
یعنی ایک حاجت مند اپنی حاجت کے لئے امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں آتا جاتا، امیرالمومنین نہ اس کی طرف التفات کرتے نہ اس کی حاجت پر نظر فرماتے، اس نے عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس امر کی شکایت کی۔ انہوں نے فرمایا وضو کرکے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ! پھر دعا مانگ! الٰہی میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے نبی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے توجہ کرتا ہوں یارسول اللہ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ میری حاجت روا فرمائیے اور اپنی حاجت ذکر کر! پھر شام کو میرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں۔ حاجت مند ( کہ وہ بھی صحابی یا الاقل کبار تابعین سے تھے ) یوں ہی کیا، پھر آستانہ خلافت پر حاضر ہوئے دربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضور لے گیا، امیرالمومنین نے اپنے مسند پر بٹھا لیا، مطلب پوچھا، عرض کیا، فوراً روا فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا کیا اتنے دنوں میں اس وقت تم نے اپنا مطلب بیان نہ کیا پھر فرمایا جو حاجت تمہیں پیش آیا کرے ہمارے پاس چلے آیا کرو۔
یہ صاحب وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملے اور کہا اللہ تعالٰی تمہیں جزائے خیر دے “ امیرالمومنین میری حاجت پر نظر اور میری طرف توجہ نہ فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی، عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا خدا کی قسم! میں نے تمھارے معاملے میں امیرالمومنین سے کچھ بھی نہ کیا مگر ہوا یہ کہ میں نے سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا حضور کی خدمت اقدس میں ایک نابینا حاضر ہوا اور نابینائی کی شکایت کی، جو حضور نے یونہی اس سے ارشاد فرمایا کہ وضو کرکے دو رکعت پڑھے پھر یہ دعا کرے خدا کی قسم ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیا گویا کبھی اندھا نہ تھا “
امام طبرانی پھر امام منذری فرماتے ہیں “ والحدیث صحیح “ امام بخاری “ کتاب الادب المفرد “ میں اور امام ابن السنی و امام بن بشکوال روایت کرتے ہیں: ان ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما خدرت رجہ فقیل لہ اذکر احب الناس الیک فصاح یا محمد اہ فانتشرت ( الادب المفرد ص250 )
امام نووی شارح صحیح مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے “ کتاب الاذکار “ میں اس کا مثل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے نقل فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس کسی آدمی کا پاؤں سو گیا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا تو اس شخص کو یاد کر جو تمھیں سب سے زیادہ محبوب ہے تو اس نے “ یامحمداہ “ کہا اچھا ہو گیا ( کتاب الاذکار، ص135 )
اور یہ امران دو صحابیوں کے سوا اوروں سے بھی مروی ہوا۔ اہل مدینہ میں قدیم سے اس “ یامحمداہ “ کہنے کی عادت چلی آتی ہے علامہ شہاب خفاجی مصری “ نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض “ میں فرماتے ہیں “ ھذا مما تعاھدہ اھل المدینۃ ( نسیم الریاض ج3، 355 )
حضرت بلال بن الحارث مزنی سے قحط عام الرمادہ میں کہ بعد خلافت فاروقی 18ھ میں واقع ہوا، ان کی قوم بنی مزینہ نے درخواست کی کہ ہم مرے جاتے ہیں کوئی بکری ذبح کیجئے، فرمایا بکریوں میں کچھ نہیں رہا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا، آخر ذبح کی کھال کھینچی تو نری سرخ ہڈی نکلی، یہ دیکھ کر بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ندا کی یامحمداہ ! پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں تشریف لا کر بشارت دی “ ذکر فی الکامل “۔ ( تاریخ کامل مصنف ابن اثیرج2، ص556 )
اقوال و افعال اولیاء کاملین وائمہ مجتھدین سے نداء کا ثبوت
امام مجتہد فقیہ اجل عبدالرحمٰن ہذلی کوفی مسعودی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پوتے اور اجلئہ تبع تابعین و اکابر ائمہ مجتہدین سے ہیں، سر پر بلند ٹوپی رکھتے جس میں لکھا تھا “ محمد یا منصور !“ اور ظاہر ہے کہ “ القلم احد اللسانین “ ہشیم بن جمیل انطاکی کہ ثقات علمائے محدثین سے ہیں، انہیں امام اجل کی نسبت فرماتے ہیں، “ رایتہ وعلی رامہ قلنسوۃ اطول من ذراع مکتوب فیھا محمد یامنصور ذکرۃ فی تھذیب التھذیب وغیرہ (میزان الاعتدال مصنف ابو عبداللہ ج2، ص574) امام شیخ السلام شہاب رملی انصاری کے فتاوٰی میں ہے “ سئل عما یقع من العامۃ من قولھم عند الشدائد یا شیخ فلاں و نحو ذلک من الاستغائۃ بالانباء و المرسلین و الصالحین وھل للمشائخ اغائۃ بعد موتھم ام لا فاجاب بما نصہ ان الاستغائۃ بالانبیاء و المرسلین و الاولیاء والعلماء الصالحین جائزۃ وللانبیاء والرسل والالیاء والصالحین اغائۃ بعد موتھم الخ ( مشارق الانور مصنف حسن الصدو یالحمزاوی،59 ) یعنی ان سے استفتاء ہوا کہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت انبیاء و مرسلین و صالحین سے فریاد کرتے اور یارسول اللہ یاعلی یاشیخ عبدالقادر جیلانی اور ان کے مثل کلمات کہتے ہیں، یہ جائز ہے یا نہیں ؟ اورا ولیاء بعد انتقال کے بھی مدد فرماتے ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ بےشک انبیاء مرسلین و اولیاء و علماء سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعد انتقال بھی امداد فرماتے ہیں۔
ّعلامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار فتاوٰی خیریہ میں فرماتے ہیں “ قولھم یا شیخ عبدالقادر ندا فما الموجب لحرمۃ “ ( فتاوٰی خیریہ علامہ خیرالدین رملی، ج2،ص282، رگ بازار قندھار ) لوگوں کا کہنا کہ یاشیخ عبدالقادر یہ ایک نداء ہے، پھر اس کی حرمت کا سبب کیا ہے ؟ سیدجمال بن عبداللہ عمر مکی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں “ سئلت عمن یقول فی حال الشدائد یارسول اللہ او یاعلی اور یاشیخ القادر مثلاً ھل ھو جائز شرعا ام لا اجبت نعم الاستغائۃ بلاولیاء و نداء وھم والتوسل بھم امر مشروع وشئی مرغوب لا ینکرہ الا مکابر او معائد وقد حرم برکۃ الاولیاء الکرام “ یعنی مجھ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جو مصیبت کے وقت میں کہتا ہے “ یارسول اللہ، یاعلی، یاشیخ عبدالقادر “ مثلا آیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ میں نے جواب دیا ہاں اولیاء سے مدد مانگنی اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا شرع میں جائز اور پسندیدہ چیز ہے۔ جس کا انکار نہ کریگا مگر ہٹ دھرم یا صاحب عناد اور بیشک وہ اولیاء کرام کی برکت سے محروم ہے۔
امام ابن جوزی نے کتاب “ عیون الحکایات “ میں تین اولیاء عظام کا عظیم الشان واقعہ بسند مسلسل روایت کیا کہ وہ تین بھائی سواران دلاور ساکنان شام تھے، ہمیشہ راہ خدا میں جہاد کرتے۔ “ فاسرہ الروم مرۃ فقال لھم الملک انی اجعل فیکم الملک وازواجکم بناتی وتدخلون فی النصرانیۃ فابوا وقالوا یا محمداہ “۔ یعنی ایک بار نصارائے روم انہیں قید کرکے لے گئے، بادشاہ نے کہا میں تمھیں سلطنت دوں گا اور اپنی بیٹیاں تمہیں بیاہ دوں گا، تم نصرانی ہو جاؤ انہوں نے نہ مانا اور نداء کی یامحمداہ۔
بادشاہ نے دیگوں میں تیل گرم کروا کر دو صاحبوں کو اس میں ڈال دیا، تیسرے کو اللہ تعالٰی نے ایک سبب پیدا فرما کر بچا لیا، وہ دونوں چھ مہینے کے بعد مع ایک جماعت ملائکہ کے بیداری میں ان کے پاس آئے اور فرمایا اللہ تعالٰی نے ہمیں تمھاری شادی میں شریک ہونے کو بھیجا ہے انہوں نے حال پوچھا فرمایا “ ماکانت الاالغطمۃ التی رایت حتی خرجنا فی الفردوس “ بس وہی تیل کا ایک غوطہ تھا جو تم نے دیکھا اس کے بعد ہم جنت اعلٰی میں تھے۔ امام فرماتے ہیں: “ کانو مشھورین بذلک معروفین بالشام فی الزمن الاول “ یہ حضرات زمانہ سلف میں شام میں مشہور تھے اور ان کا یہ واقعہ معروف پھر فرمایا شعراء نے ان کی منقبت میں قصیدے لکھے ازا نجملہ یہ بیت ہے۔
سیعطی الصادقین بفضل صدق نجدۃ فی الحیوۃ و فی الممات
( شرح الصدور علامہ جلال الدین سیوطی، ج89، ص90، خلافت اکیڈمی سوات )
قریب ہے کہ اللہ تعالٰی سچے ایمان والوں کو ان کے سچ کی برکت سے حیات و موت میں نجات بخشے گا۔ یہ واقعہ عجیب نفیس و روح پرور ہے، میں بخایل تطویل اسے مختصر کر گیا، تمام و کمال امام جلال الدین سیوطی کی شرح الصدور میں ہے “من شاء فلیرجع الیہ“ یہاں مقصود اس قدر ہے کہ مصیبت میں یارسول اللہ! کہنا اگر شرک ہے تو مشرک کی مغفرت و شہادت کیسی اور جنت الفردوس میں جگہ پانی کیا معنٰی اور ان کی شادی میں فرشتوں کو بھیجنا کیونکر معقول؟ اور ان ائمہ دین نے یہ روایت کیونکر مقبول اور ان کی شہادت و ولایت کس درجہ سے مسلم رکھی، اور وہ مردان خدا خود بھی سلف صالحین میں تھے کہ واقعہ شہر طرسوس کی آبادی سے پہلے کا ہے کما ذکرہ فی الروایۃ نفسھا۔ اور طرسوس ایک ثغر ہے۔ یعنی دارالاسلام کی سرحد کا شہر جسے خلیفہ
ہارون رشید نے آباد کیا۔ کما ذکرہ الامام السیوطی فی تاریخ الخلفاء (شرح الصدور علامہ جلال الدین سیوطی، ج89، خلافت اکیڈمی سوات ) ہارون رشید کا زمانہ تابعین و تبع تابعین تھا تو یہ تینوں شہدائے کرام اگر تابعی نہ تھے الاقل تبع تابعین سے تھے واللہ الھادی حضور پرنور سید غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ارشاد فرماتے ہیں “ من استغاث بی فی کربۃ کشفت عنہ ومن نادی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ ومن توسل بی الی اللہ عزوجل فی جاجۃ قضیت لہ امن صلی رکعتین یقروفی کل رکعۃ بعد الفاتحہ سورۃ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم یصلی علی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بعد السلام و یسلم علیہ ویذکرنی ثم یخطوا الی جھۃ العراق احدٰی عشرۃ خطوۃ یذکر فیھا اسمی ویذکر حاجتہ فاناھا تقضی باذن اللہ ( بھجۃ الاسرار امام ابو الحسن نور الدین، مصطفٰی البانی مصر،102 ) یعنی جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہو اور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر نداء کرے وہ سختی دور ہو اور جو کسی حاجت میں اللہ تعالٰی کی طرف سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے اور جو دو رکعت نماز ادا کرے ہر رکعت میں بعد فاتحہ کے سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام پھیر کر نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے اور مجھے یاد کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے اس کی حاجت روا ہو اللہ کے اذن سے۔
اکابرین علمائے کرام اولیاءکرام عظام مثل ابوالحسن نور الدین علی بن جریر لخمی شطنوفی و امام عبداللہ بن اسعد یافعی مکی، مولانا علی قاری مکی صاحب مرقاۃ شرح مشکوۃ مولینا ابو المعالی محمس مسلمی قادری، و شیخ محقق مولیٰنا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اپنی تصانیف جلیلہ “ حجۃ السرار و خلاصۃ المفاخر ونزھۃ الخاطر و تحفئہ قادریہ للآثا و غیرھا“ میں یہ کلمات رحمت آیات حضور غوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل روایت فرماتے ہیں۔
امام ابوالحسن نورالدین علی مصنف بہجۃ الاسرار شریف، اعاظم علماء و ائمہ قرآت و اکابر اولیاء و سادات طریقت سے ہیں، حضور غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی عنہ تک صرف دو واسطے رکھتے ہیں، امام اجل حضرت ابو صالح نصر قدس سرہ فیض حاصل کیا، انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت ابو بکر تاج الدین عبدالرزاق نور اللہ مرقدہ سے انھوں نے اپنے والد ماجد حضور پرنور سیدالسادات غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے۔ شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ “زہدۃ الآثار“ شریف میں فرماتے ہیں یہ کتاب بجہۃ الاسرار کتاب عظیم و شریف مشہور ہے اور اس کے مصنف علمائے قراءت سے عالم معروف و مشہور اور ان کے احوال شریفہ کتابوں میں مذکور مسطور۔ ( زبدۃ الآثار فارسی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، بکسنگ کمپنی ممبئی2 )
امام شمس الدین ذہبی کہ علم حدیث و اسماء الرجال میں جن کی جلالت شان عالم آشکار اس جناب کی مجلس درس میں حاضر ہوئے اور اپنی کتاب “طبقات المقرئین“ میں ان کے مدائح لکھے۔ امام محدث محمد بن محمد بن محمد بن الجزری مصنف حصن حصین اس جناب کے سلسلہ تلامذہ میں ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب “ مستطاب بحجۃ الاسرار “ شریف اپنے شیخ سے پڑھی اور اس کی سند و اجازت حاصل کی۔ ( زبدۃ الآثار فارسی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، بکسنگ کمپنی ممبئی،24 )
ان سب باتوں کی تفصیل اور اس نماز مبارک کے دلائل شرعیہ و اقوال و افعال علماء و اولیاء سے ثبوت جلیل فقیر غفراللہ تعالٰی کے رسالہ “ انھا رالانورا من یم صلوۃ الاسرار “ میں ہے “ فعلیک بھا تجد فیھا ما یشفی الصدور ویکشف العمی والحمدللہ رب العالمین “ امام عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب “ مستطاب لواقع الانوار فی طبقات الخیار “ میں فرماتے ہیں “ سید محمد غمری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایک مرید بازار میں تشریف لے جاتے تھے ان کے جانور کا پاؤں پھسلا، آواز پکارا “ یا سیدی محمد یا غمری “ ادھر ابن عمر حاکم صعید کو بحکم سلطان چقمق قید کئے لئے جاتے تھے، ابن عمر نے فقیر کا نداء کرنا سنا پوچھا، یہ سیدی محمد کون ہیں ؟ کہا میرے شیخ، کہا میں ذلیل بھی کہتا ہوں “ یاسیدی محمد یا غمری لا حفظنی “ اے میرے سردار، اے محمد غمری مجھ پر نظر عنایت کرو ان کا یہ کہنا کہ حضرت سیدی محمد غمری رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور مدد فرمائی کہ بادشاہ اور اس کے لشکریوں کی جان پر بن گئی، مجبورانہ ابن عمر کو خلعت دیکر رخصت کیا۔ ( طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2،94 ) سیدی شمس الدین محمد حنفی رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے حجرہء خلوت میں وضو فرما رہے تھے ناگاہ ایک کھڑاؤں ہوا پر پھینکی کہ غائب ہو گئی حالانکہ حجرے میں کوئی راہ اس کے ہوا پر جانے کی نہ تھی، دوسری کھڑاؤں اپنے خادم کو عطا فرمائی کہ اسے اپنے رہنے دے جب تک وہ پہلی واپس آئے ایک مدت کے بعد ملک شام سے ایک شخص وہ کھڑاؤں مع ہدیہ کے حاضر لایا اور عرض کی کہ اللہ تعالٰی حضرت کو جزائے خیر دے، جب چور میرے سینے پر مجھے ذبح کرنے بیٹھا میں نے اپنے دل میں کہا یاسیدی محمد یا حنفی! اسی وقت یہ کھڑاؤں غیب سے آ کر اس کے سینہ پر لگی کہ غش کھا کر الٹا ہو گیا اور مجھے یہ برکت حضرت اللہ عزوجل نے نجات بخشی۔
اسی میں ہے:
ولی ممدوح قدس سرہ کی زوجہ مقدسہ بیماری سے قریب مرگ ہوئیں تو وہ یوں نداء کرتی تھیں “ یا سیدی احمد یا بدوی خاطرک معی “ اے میرے سردار اے احمد بدوی حضرت کی توجہ میرے ساتھ ہے ایک دن حضرت سیدی احمد کبیر بدوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خواب میں دیکھا کہ فرماتے ہیں کب تک مجھے پکارے گی اور مجھ سے فریاد کرے گی تو جانتی ہی نہیں کہ تو ایک بڑے صاحب (یعنی اپنے شوہر) کی حمایت میں ہے اور جو کسی ولی کبیر کی درسگاہ میں ہوتا ہے ہم اس کی نداء پر اجازت نہیں کرتے یوں کہہ یاسیدی محمد حنفی! کہ یہ کہے گی تو اللہ تعالٰی تجھے عافیت بخشے ان بی بی نے یونہی کہا صبح کو خاص تندرست اٹھیں گویا کبھی مرض نہ تھا۔ (طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2،94)
اسی میں ہے حضرت ممدوح رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے مرض موت میں فرماتے تھے، “ من کانت حاجۃ فلیات الی قبری من تراب فلیس برجل “ (طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2، 96) جسے کوئی حاجت ہو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر حاجت مانگے میں روا فرما دوں گا کہ مجھ میں تم میں یہی ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کر دے وہ مرد کا ہے کا ؟
اسی طرح حضرت سیدی محمد بن احمد فرغل رضی اللہ تعالٰی عنہ کے احوال شریفہ میں لکھا “کان رضی اللہ تعالٰی عنہ یقول انا من المتصرفین فبورھم فمن کانت لہ حاجۃ فلیات الی قابلۃ وجھی یذکر ھال اقتضالہ “ (طبقات الکبرٰی، عدبالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر 2/ 105) فرمایا کرتے تھے میں ان میں ہوں جو اپنی قبور میں تصرف فرماتےہیں جسے کوئی حاجت ہو میرے پاس میرے چہرہء مبارک کے سامنے حاضر ہو کر مجھ سے اپنی حاجت کہے میں روا فرما دوں گا۔
اسی میں ہے:-
“ مروی ہوا، ایک بار حضرت سیدی مدین بن احمد اشمونی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وضو فرماتے ہیں ایک کھڑاؤں بلاد مشرق کی طرف پھینکی، سال بھر کے بعد ایک شخص حاضر ہوئے، اور وہ کھڑاؤں اس کے پاس تھی، انھوں نے حال عرض کیا کہ جنگل میں ایک بدوضع نے ان کی صاحبزادی پر دست دراز چاہی، لڑکی کو اس وقت اپنے باپ کے پیرومرشد حضرت سیدی مدین کا نام معلوم نہ تھا، یوں ندا کی “یاشیخ ابی الاحظنی“ اے میرے باپ کے پیر مجھے بچائیے۔ یہ نداء کرتے ہی وہ کھڑاؤں آئی، لڑکی نے نجات پائی وہ کھڑاؤں ان کی اولاد میں ابت تک موجود ہے۔ (طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2/102) اسی میں سیدی مولٰی ابو عمران رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ذکر میں لکھتے ہیں “کان اذا ناداہ مریدہ اجابہ من مسیرہ سنۃ او اکثر“ (طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2/21) یعنی ان کا مرید جہاں کہیں سے انھیں نداء کرتا جواب دیتے اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے بھی زائد۔
حضرت شیخ مولینا عبدالحق محدث دہلوی “اخبار الاخیار“ شریف میں ذکرمبارک حضرت اجل شیخ بہاؤالحق والدین ابراہیم و عطاء اللہ الانصاری القادری الشطاری الحسینی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت ممدوح کے رسالہ مبارکہ “شطاریہ“ سے نقل فرماتے ہیں:
“ ذکر کشف ارواح یا احمد یا محمد! دردوطریق ست یک طریق آنست یا احمد رادر راست بگوید و یامحمد رادر چپا بگوید وردردل ضرب کند یارسول اللہ طریق دوم آنست کہ یااحمد رادرد استا گوید و چپایا محمد و دردل وہم کند یامصطفٰی۔ دیگر ذکر یااحمد یامحمد یاعلی یاحسن یاحسین یافاطمہ شش طرفی ذکر کند کشف جمیع ارواح شود دیگر اسمائے ملکہ مقرب ہمیں تاثیر دارند یاجبرئیل، یامیکائیل یااسرافیل یاعزرائیل چہار ضربی دیگر ذکر اسم شیخ یعنی بگوید یاشیخ یاشیخ ہزار بار بگوید کہ حرف نداء را ازدل بکشد طرف راستا برود لفظ شیخ راد ردل ضرب کند “ (اخبار الاخیار، شاہ عبدالحق محدث دہلوی، مکتبہ رحیمیہ دیوبند،2/30)
حضرت سیدی نورالدین عبدالرحمٰن مولینا جامی قدس سرہ السامی “نفخات الانس شریف میں حضرت مولوی معنوی قدس سرہ العلی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ مولینا روح اللہ روحہ نے قریب انتقال ارشاد فرمایا “ازرقن من غمناک مشوید کہ نور منصور اللہ رحمۃ اللہ تعالٰی بعد از صدو پنجاہ سال بروح شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ تعالٰی تجلی کردہ مرشد اوشد “ اور فرمایا: در ہر حالتے کہ باشید مرایاد کنید تامن اممد باشم در ہر لباسے کہ باشم“ اور فرمایا: “در عالم ماراد و تعلق ست یکے بہ دن و یکے بشما و چوں بہ عنایت حق سبحانہ و تعالی فرد مجرد شوم و عالم تجرید و تفرید روئے نماید آں تعلق نیز از آں خواہد بود “ (تفخات الانس، اردو عبدالرحمٰن جامی، مدینہ پبلیشنگ کراچی، 702)
شاہ ولی صاحب دہلوی “اطیب انغم فی مدح سیدالعرب والعجم“ میں لکھتے ہیں “ وصلی علیک اللہ یاخیر خلقہ ویا خیر مامول ویاخیر واھب ویاخیر من یرجی لکشف رزیۃ ومن جودہ قدفاق جود السحائب وانت مجیری من ھجوم ملمۃ اذا انشبت فی القلب شرا المخالب“ اور خود اس کی شرح و ترجمہ میں کہتے ہیں “ (فصل یا زدہم) در اہتمام بجناب آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم رحمت فرستد بر تو خدائے تعالی ائے بہترین خلق خدا! واے بہترین کسیکہ امید داشتہ شود! اے بہترین عطا کنندہ واے بہترین کسیکہ امید داشتہ باشد برائے ازالئہ مصیبتے واے بہترین کیسکہ سخاوت او زیادہ است از باراں بارہا گواہی میدہم کہ تو پناہ دہندہ منی از ہجوم کر دن مصیبتے وقت کہ بخلا مذدردل بدترین چنگال یا اھ ملخصاً (اطیب النغم، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مجتبائی دہلی، 22)
اسی کے شروح میں لکھتے ہیں “ذکر بعض حوادث زماں کہ دراں حوارث لابدست از استمداد بروح آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم (اطیب النغم، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مجتبائی دہلی،2) اسی فصل اول میں لکھتے ہیں “ بہ نظر نمے آید مرا مگر آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کہ جائے دست زدن اندوہگین ست در ہر شدتے (اطیب النغم، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مجتبائی دہلی، 4) یہی شاہ صاحب “مدحیہ ھمزیہ“ میں لکھتے ہیں
ینادی ضارعا بخضوع قلب وذل و ابتھال و التجاء رسول اللہ یاخیر البرایا نوالک ابتغی یوم القضاء اذا ماحل خطیب مدلھم فانت الحصن من کل البلاء الیک توجھی وبک استنادی وفیک مطامعی وبک ارتجاء
اور خود ہی اس کی شرح و ترجمہ میں لکھتے ہیں:
(فصل ششم) در مخاطبئہ جناب عالی علیہ افضل الصلٰت و اکمل التحیات و التسلیمات نداء کند زارد خوارشدہ بشکسگی دل و اظہار بےقدری خود بہ اخلاص در مناجات وبہ پناہ گرفتن بایں طریق کہ ائے رسول خدا ائے بہترین مخلوقات عطائے مے خواہم روز فصل کردن وقے کہ فردو آید کار عظیم درغایت تاریکی پس توئی پناہ ازہریلا بسوائے تست رو آور دن من وبہ تست پناہ گرفتن من و درتست امید داشتن من اہ ملخصاً (اطیب النغم، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مجتبائی دہلی،33)
یہی شاہ صاحب انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ میں قضائے حاجت کے لئے ایک ختم کی ترکیب یوں نقل کرتے ہیں: “ اول دو رکعت نعل بعد ازاں یکصد و یازدہ باردرود بعد ازاں یکصد و یازدہ بار کلمہ تمجید ع یک صدو یازدہ بار شئیاللہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی“ اسی انتباہ سے ثابت کہ یہی شاہ صاحب اور ان کے شیخ و استاذ حدیث مولینا طاہر مدنی جن کی خدمت میں مدتوں رہ کر شاہ صاحب نے حدیث پڑھی اور ان کے شیخ و استاذ والد مولانا ابراہیم کردی اور ان کے استاذ مولانا احمد قشاشی اور ان کے استاذ مولینا احمد ثناوی اور شاہ صاحب کے استاذ الاستاذ مولینا احمد نخلی کہ یہ چاروں حضرات بھی شاہ صاحب کے اکثر سلاسل حدیث میں داخل اور شاہ صاحب کے پیرومرشد شیخ محمد سعید لاہوری جنھیں انتباہ میں شیخ معمرثقہ کہا اور اعیان مشائخ طریقت سے گنا اور ان کے پیر شیخ محمد اشرف لاہوری اور ان کے شیخ مولانا عبدالملک اور ان کے مرشد بایزید ثانی اور شیخ شناوی کے پیر حضرت سید صبغۃ اللہ بروحی اور ان دونوں صاحبوں کے پیرومرشد مولینا وجیہ الدین علوی شارح ہدایہ و شرح و قایہ اور ان کے شیخ حضرت شاہ محمد غوث گوالیاری علیہم رحمۃ الملک الباری۔
یہ سب اکابرناد علی کی سندیں لیتے اور اپنے تلامذہ و مستفیدین کو اجازتیں دیتے اور یاعلی یاعلی کا وظیفہ کرتے وللہ الحجۃ السامیہ جسے اس کی تفصیل ہو فقیر کے رسالہ “ انھا الانوار وحیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات “ کی طرف رجوع کرے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب نے بستان المثین میں حضرت ارفع و اعلی امام العلماء نظام الاولیاء حضرت سیدی احمد زروق مغربی قدس سرہ استاذ امام شمس الدین لقانی و امام شہاب الدین قسطلانی شارح صحیح بخاری کی مدح عظیم لکھی کہ وہ جناب ابدال سبعہ و محققین صوفیہ سے ہیں، شریعت و حقیقت کے جامع باوصف علو باطن ان کی تصانیف علوم ظاہری میں بھی نافع و مفید بکثرت ہیں، اکابر علماء فخر کرتے تھے کہ ہم ایسے جلیل الدر عالم و عارف کے شاگرد ہیں یہاں تک کہ لکھا: “بالجملہ مردے جلیل القدرے ست کہ مرتبہ کمال او فوق الذکراست“
پھر اس جناب جلالت مآب کے کلام پاک سے دوبیتیں نقل کیں کہ فرماتے ہیں
انا لمریدی جامع لشتاتہ اذا ما سطا جور الزمان بنکبۃ وان کنت فی ضیق و کرب و وحشۃ فناد بیان زروق اٰت بسرعۃ
یعنی میں اپنے مرید کی پریشانیوں میں جمعیت بخشنے والا ہوں جب ستم زمانہ اپنی نحوست سے اس پر تعدی کرے اور اگر توتنگی و تکلیف و وحشت میں ہو تو یوں نداء کر یازروق! میں فوراً موجود ہوں گا (بستان المحدثین، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، سعید کمپنی کراچی، 325)
علامہ زیادی پھر علامہ اجمہوری صاحب تصانیف کثیرہ مشہورہ پھر علامہ داوؤدی محشی شرح منہج پھر علامہ شامی صاحب ردالمحتار حاشیہ درمختار گمشدہ چیز ملنے کے لئے فرماتے ہیں کہ بلندی پر جاکر حضرت سیدی احمد بن علوان یمنی قدس سرہ کے لئے فاتحہ پڑھے پھر انھیں نداء کرے کہ یاسیدی احمد یاابن علوان شامی مشہور معروف کتاب ہے۔ (ردالمحتار، ابن عابدین بن شامی، دارلکتب العربیہ مصر، 3/355)
فقیر نے اس کے حاشیہ کی یہ عبارت اپنے رسالہ حیاۃ الموات کے ہامش تکملہ پر ذکر کی۔ غرض یہ صحابہ کرام سے اس وقت تک کہ اس قدر ائمہ و اولیاء و علماء ہیں جن کے اقوال فقیر نے ایک ساعت قلیلہ میں جمع کئے اب مشرک کہنے والوں سے صاف پوچھنا چاہئیے کہ عثمان بن حنیف و عبداللہ بن عباس بن عمر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے لیکر شاہ ولی اللہ و شاہ عبدالعزیز صاحب اور ان کے استاذہ و مشائخ تک سب کو کافر و مشرک کہتے ہو یا نہیں ؟ اگر انکار کریں تو الحمدللہ! ہدایت پائی اور حق واضح ہو گیا اور بےدھڑک ان سب پر کفر و شرک کا فتوٰی جاری کریں تو ان سے کہئے کہ اللہ تمھیں ہدایت کرے۔ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو تو کسے کہا اور کہا کچھ کہا، اناللہ و انا الیہ راجعون اور جان لیجئے کہ جس مذہب کی بناء پر صحابہ سے کیلر اب تک کے اکابر سب معاذاللہ مشرک و کافر ٹھہریں، وہ مذہب خدا و رسول کو کس قدر دشمن ہو گا۔
صحیح حدیثوں میں آیا کہ جو کسی مسلمان کو کافر کہے خود کافر ہے اور بہت سے ائمہ دین نے مطلقاً اس پر فتوی دیا جس کی تفصیل فقیر نے اپنے رسالہ “النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید۔“ میں ذکر کی، ہم اگرچہ بحکم احتیاط تکفیر نہ کریں تاہم اس قدر میں کلام نہیں کہ ایک گروہ ائمہ کے نزدیک یہ حضرات کہ یارسول اللہ و یاعلی و یاحسن و یاغوث الثقلین کہنے والے مسلمان کو کافر و مشرک کہتے ہیں۔ خود کافر ہیں تو ان پر لازم کہ نئے سرے سے کلمہء اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں۔ درمختار میں ہے۔ “مافیہ خلاف یومر بالاستغفار والتوبۃ و تجدید النکاح“
فائدہ
حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو نداء کرنے کے عمدہ دلائل سے التحیات ہے جسے ہر نمازی ہر نماز کی دو رکعت پر پڑھتا ہے اور اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم سے عرض کرتا ہے:
السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ و برکاتہ یعنی سلام حضور پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں
اگر نداء معاذاللہ شرک ہے تو یہ عجب شرک ہے کہ عین نماز میں شریک و داخل ہے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم اور اگر یہ جاہلانہ خیال محض باطل کہ التحیات زمانہ اقدس سے ویسے ہی چلی آئی ہے تو مقصود ان لفظوں کی ادا ہے نہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نداء۔ حاشاو کلا شریعت مطہرہ نے نماز میں کوئی ذکر ایسا نہیں رکھا ہے جس میں صرف زبان سے لفظ نکالے جائیں اور معنی مراد نہ ہوں۔ نہیں نہیں بلکہ قطعاً یہی درکار ہے کہ “التحیات للہ والصلوات والطیبات“ سے حمدالٰہی کا قصد رکھے اور “السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ سے یہ ارادہ کرے کہ اس وقت میں اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتا اور حضور سے بالقصد عرض کر رہا ہوں کہ سلام حضور پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
فتاوٰی عالمگیری میں شرح قدوری سے ہے “لا بدان یقصد بالفاظ التشھد معا نیھا التی وضعت لھا من عندہ کانہ یحی اللہ تعالٰی ویسلم علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلی نفسہ علی اولیاء اللہ تعالٰی“ (فتاوٰی عالمگیری، نورانی کتب خانہ پیشاور، 2/72) تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے: ( ویقصد بالفاظ التشھد) معا نبھا مرادۃ لہ علی وجہ (النشاء) کانہ یحی اللہ تعالی ویسلم علی نبیہ وعلی نفسہ و اولیائہ (لاارفما) عن ذلک ذکرہ فی المجتبی“ (تنویرالابصار، ابن عابدین بن شامی، بیروت 1/342)
علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں فرماتے ہیں: “یقصد معانیہ مرداۃ علی انہ ینشئھا تحیۃ وسلامامنہ“ (مراقی الفلاح، حسن شرنبلالی، ازہریہ مصر165) اسی طرح بہت علماء نے تصریح فرمائی اس پر بعض سفہائے منکرین یہ عذر گڑھتے ہیں کہ صلوۃ و سلام پہنچانے پر ملائکہ مقرر ہیں تو ان میں نداء جائز اور ان کے ماوراء میں ناجائز حالانکہ یہ سخت جہالت، بےمزہ ہے۔ قطع نظر بہت اعتراضوں سے جو اس پر وارد ہوتے ہیں، ان ہوشمندوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ صرف درور و سلام ہی نہیں بلکہ امت کے تمام اقوال و افعال و اعمال روزانہ دو وقت سرکار عرش وقار حضور سیدالابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں عرض کئیے جاتے ہیں۔
احادیث کثیرہ میں تصریح ہے کہ مطلقاً اعمال حسنہ و سیئہ سب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں اور یونہی تمام انبیاءکرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور والدین و اعزاء و اقارب سب پر عرض اعمال ہوتی ہے۔
فقیر نے اپنے “رسالہ سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری“ میں وہ سب حدیثیں جمع کیں، یہاں اسی قدر بس ہے کہ امام اجل عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی “لیس من یوم الا وتعرض علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اعمال امتہ غدوۃ و عشیا فیعرفھم بسیما ھم واعمالھم“ (شرح مواہب اللدنیہ، عبدالباقی زرقانی، دارالمعرفہ بیروت، 5/337) یعنی کوئی دن ایسا نہیں جس میں سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر اعمال امت ہر صبح و شام پیش نہ کئیے جاتے ہوں تو حضور کا اپنے امتیوں کا پہچاننا ان کی علامت اور ان کے اعمال دونوں وجہ سے ہے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وشرف وکرم)
بدعت کیا ہے ؟
بدعت کے لغوی معنی ہیں نئی چیزاصطلاح شریعت میں بدعت کہتے ہیں دین میں نیا کام جو ثواب کیلئے ایجاد کیا جائے اگر یہ کام خلاف دین ہو تو حرام ہے اور اگر اس کے خلاف نہ ہو تودرست یہ دونوں معنی قرآن شریف میں استعمال ہوئے ہیں۔
رب تعالیٰ فرماتا ہے۔
(1) بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ
وہ اللہ آسمانوں اور زمین کا ایجاد فرمانے والا ہے ۔(پ1،البقرۃ:117)
(2)قُلْ مَا کُنۡتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ
فرمادو کہ میں انوکھا رسول نہیں ہوں۔ (پ26،الاحقاف:9)
ان دونوں آیتو ں میں بدعت لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی انوکھا نیا رب تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ جَعَلْنَا فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ رَاۡفَۃً وَّ رَحْمَۃً ؕ وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابْتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبْنٰہَا عَلَیۡہِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ ۚ وَکَثِیۡرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾
اور عیسیٰ علیہ السلام کے پیروؤں کے دل میں ہم نے نرمی اور رحمت رکھی اور ترک دنیا یہ بات جو انہوں نے دین میں اپنی طر ف سے نکالی ۔ ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا تو ان کے مومنوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں سے بہت سے فاسق ہیں۔(پ27،الحدید:27)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ عیسائیوں نے رہبانیت اور تارک الدنیا ہونا اپنی طر ف سے ایجاد کیا ۔ رب تعالیٰ نے ان کو اس کا حکم نہ دیا ۔ بد عت حسنہ کے طور پر انہوں نے یہ عبادت ایجاد کی اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بدعت کا ثواب دیا مگر جو اسے نباہ نہ سکے یا جو ایمان سے پھر گئے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے معلوم ہوا کہ دین میں نئی بدعتیں ایجاد کرنا جو دین کے خلاف نہ ہوں ثواب کا با عث ہیں مگر انہیں ہمیشہ کرنا چاہیے جیسے چھ کلمے ، نماز میں زبان سے نیت ،قرآن کے رکوع وغیرہ ،علم حدیث، محفل میلا د شریف ،اور ختم بزرگان، کہ یہ دینی چیزیں اگر چہ حضور صلی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے بعد ایجاد ہوئیں مگر چونکہ دین کے خلاف نہیں اور ان سے دینی فائدہ ہے لہٰذا باعث ثواب ہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے بہت ثواب ہوگا ۔
Hadees Pak"JO KOI ISALAM MEIN ACHA TAREEQA JARI KARAY US KO SAWAB MILAY GA OAR UN KA BHI JO US PAR AMAL KAREN GAY OAR UN KE SAWAB SE KUCH KAM NA HOGA OAR JO SHAKHS ISLAM MEIN BURA TAREEQA JARI KARAY US PAR US KA GUNAH BHI HAI OAR UN KA BHI JO US PAR AMAL KAREN GAY OAR UN KE GUNAH MEIN BHI KUCH KAMI NA HOGI".MALOOM HUA KE ISLAM MEIN KAAR E KHAIR EJAD KARNA SAWAB KA BA'IS HAI OAR BURAY KAAM NIKALNA GUNAH KA MOJIB .
AGAR MAAN BHI LIYA JAYE KE HAR BIDA'AT HARAAM HAI TO MADAS WAGAIRA KO KHATAM KARDO KE BHI HARAAM HAIN,NEEZ MASAIL FAQEEH JO KE KHAIRUL QUROON KE BAAD EJAD HOWAY TAMAM HARAAM HOJAEN GAY, 6 KALMAY,EMAN E MUJMAL,EMAN EMUFASSIL,QURAN PAK 30 PAR...AY,HADEES KI KISMEN OAR UN KE AHKAM KE YE HADEES SAHI HAI YA ZAEEF,YE HASAN HAI YA MUAZAL WAGAIRA ,ARABIC MADARIS NISAB ,JALSA DASTAR BANDI,SANAD LENA, IN CHEEZON KA KAHIN BHI QURAN O HADEES MEIN ZIKR NHI HAI, KOI NAJDI WAHABI IN CHEEZON KO TO KYA UN KE NAAM BHI KISI HADEES SE NHI DIKHA SAKTA,PHIR HADEES KI ASNAAD OAR RAWIYON PAR MURWAJA JARAH KHAIRUL QUROON SE SABIT NHI KAR SAKTA,GARZIYE KE SHARI'ATWA TAREEQAT KA KOI AMAL AISA NHI JIS MEIN BID'AT NA HO.HADEES PAK:"HAZRAT ABU BAKAR SIDDIQUE RADHE ALLAH ANHO NE ZAID BIN SABIT RADHE ALLAH ANHO KO QURAN PAK JAMA KARNAY KA HUKUM DIYA TO UNHON NE ARZ KIYA KE AAP WO KAAM KYUN KAR RAHE HAIN JO HUZOOR SALALLAHO ALEH WASALLAM NE NA KIYA,HAZRAT ABU BAKAR SIDDIQUE RADHE ALLAH ANHO NE FARMAYA KE YA ACHA KAAM HAI"(BUKHARI,JILD 2,KITAB FAZAILUL QUARN BABUL JAMAUL QURAN),HAZRAT ZAID BIN SABIT RADHE ALLAH ANHO NE BARGAAH E SIDDIQUI RADHE ALLAH ANHO MEIN YE HI ARZ KIYA KE QURAN PAK KA JAMA KARNA BIDA'AT HIA ,AAP BIDA'AT KYUN EJAD KAR RAHE HAI,HAZRAT SIDDIQUE RADHE ALLAH ANHO NE IRSHAD FARMAYA KE BIDA'AT TO HAI MAGAR HASNA HAI YANI ACHI HAI,JIS SE PATA LAGA KE FA'AL SAHABA KRAM BIDA'AT HASNA HAI.HADEES PAK:"JIS KO MUSALMAN ACHA JANEN WO ALLAH KE NAZDEEK BHI ACHA HAI,JO MUSALMANO KI JAMA'AT SE BALSHAT BHAR ALAIHADA RAHA US NE ISALAM KI RASI APNAY GALAY SE UTARI"(MISHKAT BABUL AITSAM)HADEES PAK:"BARRI JAMA'AT KI PAIRVI KARO JO JAMA'AT SE ALAIHADA RAHA WO JAHANNUM MEIN ALAIHADA KIYA GAYA"ALLAH TA'ALA QURAN PAK MEIN FARMATA HAI "OAR MUSALMANO KI RAAH SE JUDA RAAH CHALAY HUM US KO US KE HAAL PAR CHHORR DENGAY OAR DOZAKH MEIN DAKHIL KAREN GAY "(SURAH NISA ,AAYAT 115)IS AAYAT WA HADEES SE MALOOM HUA KE HAR SHAKHS KO LAZIM HAI AQAID WA AIMAL MEIN MOMINO KI JAMA'AT KE SAATH RAHE ,UN KI MUKHALFAT JAHANNUM KA RAASTA HAI."HADEES PAK:"HAZRAT SALMAN RADHE ALLAH ANHO NE FARMAYA KE RASOOLALLAH SALALLAHO ALEH WASALLAM SE GHI,PANEER OAR NEEL GAE KE MUTALIQ POOCHA GAYA TO FARMAYA HALAAL WO JIS KO ALLAH NE APNI KITAB MEIN HALAAL KIYA OAR HARAM WO JIS KO ALLAH NE APNI KITAB MEIN HARAM KIYA OAR JIS SE KHAMOSHI FARMAEE WO MUAF"(MISHKAT,KITABUL ATMAA.BABUL AADABUL TAA'M,JILD 2,PAGE 312)IS HADEES KO IBNE MAAJA OAR TIRMIZI NE BHI RIVAYAT KIYA HAI.IS HADEES SE MALOOM HUA KE CHEEZ TEEN TARAH KI HAIN,EK WO JIN KA HALAAL HONA SIRAHTAN QURAN PAK MEIN MAZKOOR HAI,DOOSRAY WO JIN KI HURMAT SIRAHTAN AA GAEE,TEESRAY WO JIN SE KHAMOSHI FARMAEE,YE MUAF HAI.
HAZRAT ABDUL REHMAN IBN E ABDUL QARI RADHE ALLAH RIVAYAT KARTAY HAIN KE EK SHAB HAZRAT UMAR BIN KHATAB RADHE ALLAH ANHO KE SATH MASJID KI TARAF GAYA TO DEKHA KE LOG TANHA ALAIHDA ALAIHDA MASJID MEIN NAMAZ PARH RAHE HAIN OAR KUCH LOG EK IMAM... KE SATH ADA KAR RAHE YHAY,US WAQT HAZRAT UMAR RADHE ALLAH ANHO NE FARMAYA AGAR MEIN INHAIN EK IMAM KE PEECHHAY JAMA KAR DON TO ZYADA BEHTAR HOGA,PHIR FAISLA KAR KE HAZRAT ABI BIN KA'AB RADHE ALLAH ANHO KO IMAM MUQARAR KAR DIYA, JAB DOOSRI SHAB MASJID KI TARAF AAYE TO DEKHA AB LOG EK IMAM KI IQTDA MEIN NAMAZ ADA KAR RAHE HAIN. YE DEKH KAR HAZRAT UMAR RADHE ALLAH ANHO NE FARMAYA KE YE ACHHI BIDA'AT HAI OAR JIS NAMAZ SE TUM GAFLAT BARTATAY HO ,YE ZYADA BEHTAR HAI KE TUM QAYAM E LAIL KARO OAR KHUD HAZRAT UMAR RADHE ALLAH AAKHIR SHAB KE QAYAM KO TARJEEH DETAY THAY OAR LOG AWWAL RAAT KO QAYAM KARTAY THAY.
BIDA'AT KE BARAY MEIN EK HAQEEQAT: EK MOLVI SAHIB KISI SHAKS KA NIKAH PARHANAY GAE ,DOOLHA KE PHOLON KA SEHRA BANDHA HUA THA,JATAY HI BOLAY YE SEHRA BIDA'AT HAI,SHIRK HAI,NA HUZOOR SALALLAHO ALEH WASALLAM NE BAANDHA,NA SAHABA KRAM NE,NA TAA...BAEEN NE,NA TABA TABAEEN NE,BATAO KON SI KITAB MEIN LIKHA HAI KE SEHRA BAANDHO,LOGON NE SEHRA KHOL DIYA JAB NIKAH PARH CHUKAY TO DOOLHA KE BAP NE 10 RUPEES KA NOTE DIYA,MOLVI SAHIB 10 KA NOTE JAIB MEIN DAAL RAHE THAY KE DOOLHA NE HAATH PAKAR LIYA OAR KAHA KE MOLVI SAHIB NIKAH PARHA KAR RUPEES LENA BIDA'AT HAI,HARAM HAI,SHIRK HAI,NA HUZOOR SALALLAHO ALEH WASALLAM NE LIYE,NA SAHABA KRAM NE LIYE,NA TAABAEEN NE LIYE,NA TABA TAABAEEN NE LIYE,MOLVI SAHIB BATAO KAHAN LIKHA HAI KE NIKAH KI FEES LO,MOLVI SAHIB BOLAY YE TO KHUSHI KE PAISAY HAIN,DOOLHA NE KAHA KE SEHRA BHI KHUSHI KA THA,GHAM KA NA THA,MOLVI SAHIB SHARAM SE DOOB GAE, YE HAI IN LOGON KI BIDA'AT.
BIDA'AT KE BARAY MEIN EK BUZURG DHOORI JI KATHIAWAR KI NAGINA MASJID MEIN WA'IZ KARNAY GAE,WAHAN MASJID MEIN MASJID MEIN HUZOOR SALALLAHO ALEH WASALLAM KE BAAL MUBARAK KI ZYARAT KARAEE JA RAHI THI, EK SHAKS MASJID KE KONAY MEIN SE YA MANZAR... DEKH RAHA THA,US BUZURG NE US SHAKS SE POOCHA AAP GUSAY MEIN KYUN HAIN?WO SHAKS FARMANAY LAGA KE MASJID MEIN SHIRK HO RAHA HAI,IS KA KYA SABOOT HAI KE YE BAAL HUZOOR ALEH SALAM KA HAI OAR AGAR HO BHI TO IS KI TAAZEEM KA KYA SABOOT HAI?US BUZURG NE JAWAB NA DIYA,BAL KE POOCHA KE JANAB KA ISM SHAREEF KYA HAI?FARMANAY JAGAY ABDUL REHMAN,WALID KA ISM GRAMI KYA HAI?FARMAYA ABDUL RAHEEM, US BUZURG NE POOCHA KE IS KA KYA SABOOT HAI KE AAP ABDUL RAHEEM KE FARZAND HAIN? AWAL TO IS NIKAH KE GAWAH NHI,AGAR KOI HO BHI TO WO SIRF NIKAH KI GAWAHI DEGA ,YE KAISAY MALLOM HUA KE JANAB KI WILADAT UN KE HI QATRAY SE HAI, WO SHAKS GUSAY SE BOLA JANAB MUSALMAN KEHTAY HAIN KE MEIN UN KA BETA HON OAR MUSALMANON KI GAWAHI MUATBAR HAI,US BUZURG NE KAHA JANAB MUSALMAN KEHTAY HAIN KE YE BAAL SHAREEF RASOOLALLAH SALALLAH ALEH WASALLAM KA HAI OAR MUSALMANO KI GAWAHI MUATBAR HAI,WO SHAKS SHARMINDA HO GAE,KEHNAY LAGAY YE OAR BAAT HAI, HS BUZURG NE POCHA KE AAP KAHN KE TAALEEM YAFTA HAIN,FARMANAY LAGAY MADARSA DEVBAND KA, US BUZURG NE KAHA KE PHIR AAP SE KYA POCHNA AAP TO REGISTRY SHUDA HAIN,EK BAAR MOULANA QUTUBUDDIN REHMATULLAH ALEH SE EK DEVBANDI FARMANAY LAGAY HUZOOR ALEH SALAM KO HUZOOR KEHNA BIDA'AT HAI,NAAM LENA CHAHIYE KYUN KE HUZOOR KEHNA KAHIN SABIT NHI,AAP REHMATULLAH ALEH NE JAWAB DIYA CHUP REH ULLOO!, WO DEVBANDI BOLAY YE KYA? AAP REHMATULLAH ALEH NE FARMAYA KE AAP,JANAB YA AAP KEHNA BIDA'AT HAI,KAHIN BHI SABIT NHI.MEIN YAQEEN SE KEHTA HON KE DEV BANDIYON KO BAHUT ZYADA TAKLEEF QAYAMAT KE DIN HOGI,JAB KE HUSOOR ALEH SALAM MAQAM E MEHMOOD PAR JALWA GAR HONGAY OAR AAP KI SHAAN TAMAM AALIM PAR ZAHIR HOGI."AAJ LAY UN KI PANAH AAJ MADAD MAANG UN SE, PHIR NA MANAYGAY QAYAMAT MEIN AGAR MAAN GAYA"
عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِالْقَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ هُرَيْرَةَ رضي اﷲ عنه لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَی الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُوْنَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَ يُصَل...ِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَا تِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ هُرَيْرَةَ رضي اﷲ عنه: إِنِّي أَرَی لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَی قَارِيئٍ وَاحِدٍ لَکَانَ أَمْثَلَ، ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَی أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَی وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ هُرَيْرَةَ رضي اﷲ عنه: نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُوْنَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُوْمُوْنَ، يُرِيْدُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَکَانَ النَّاسُ يَقُوْمُوْنَ أَوَّلَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَ مَالِکٌ.
’’حضرت عبدالرحمن بن عبد القاری روایت کرتے ہیں: میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجد کی طرف نکلا تو لوگ متفرق تھے کوئی تنہا نماز پڑھ رہا تھا اور کسی کی اقتداء میں ایک گروہ نماز پڑھ رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خیال میں انہیں ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو اچھا ہو گا پس آپ رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے سب کو جمع کر دیا، پھر میں ایک اور رات ان کے ساتھ نکلا اور لوگ ایک امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (ان کو دیکھ کر) فرمایا: یہ کتنی اچھی بدعت ہے، اور جو لوگ اس نماز (تراویح) سے سو رہے ہیں وہ نماز ادا کرنے والوں سے زیادہ بہتر ہیں اور اس سے ان کی مراد وہ لوگ تھے (جو رات کو جلدی سو کر) رات کے پچھلے پہر میں نماز ادا کرتے تھے اور تراویح ادا کرنے والے لوگ رات کے پہلے پہر میں نماز ادا کرتے تھے۔‘‘الحدیث رقم 4: اخرجہ البخاری فی صحیح، کتاب: صلاۃ التراویح، باب: فضل من قام رمضان، 2 / 707، الرقم: 1906، ومالک فی الموطا، کتاب: الصلاۃ فی رمضان، باب: الترغیب في الصلاۃ في رمضان، 1 / 114، الرقم: 650، و ابن خزیمۃ فی الصحیح، 2 / 155، الرقم: 155، و عبدالرزاق فی المصنف، 4 / 258، الرقم: 7723، و البیہقی فی السنن الکبری، 12، 493، الرقم: 4378، و فی شعب الایمان، 3 / 177، الرقم: 3269۔
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اﷲِ بْنُ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما جَالِسٌ إِلَي حُجْرَةِ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها، وَإِذَا نَاسٌ يُصَلُّوْنَ فِي الْمَسْجِدِ صَلَاةَ الضُّحَي. قَالَ : فَس...َأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ : بِدْعَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
الحديث رقم 18 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : العمرة، باب : کم اعتمر النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 2 / 630، الرقم : 1685، ومسلم في الصحيح، کتاب : الحج، باب : بيان عدد عمر النبي صلي الله عليه وآله وسلم وزمانهن، 2 / 917، الرقم : 1255، وابن خزيمة في الصحيح، 4 / 358، الرقم : 3070، وابن حبان في الصحيح، 9 / 269، الرقم : 3945، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 128، الرقم : 6126، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 172، الرقم : 616، وابن راهويه في المسند، 3 / 614، الرقم : 1187، والعسقلاني في فتح الباري، 3 / 52، الرقم : 1121، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 4 / 5، وفي شرح النووي علي صحيح مسلم، 8 / 237، والزيلعي في نصب الراية، 3 / 94.
’’حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہما مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما حجرہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے اُن لوگوں کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : بدعت (حسنہ) ہے۔‘‘
الْأَعْرَجِ رضي الله عنه قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنِ صَلَاةِ الضُّحَي وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : بِدْعَةٌ وَنِعْمَتِ الْبِدْعَةُ.
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ صَحِيْ...حٍ.
الحديث رقم 19 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 172، الرقم : 7775، والعسقلاني في فتح الباري، 3 / 52، الرقم : 1121.
’’حضرت اعرج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے نماز چاشت کے متعلق سوال کیا جب وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ تو انہوں نے فرمایا : بدعت ہے اور بہت اچھی بدعت ہے۔‘‘
عَنْ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ. مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَ...يئٌ. وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِئَةً، کَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ. مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيئٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
الحديث رقم 21 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الزکاة، باب : الحث علي الصدقة ولو بشق تمرة أو کلمة طيبة وأنها حجاب من النار، 2 / 704، الرقم : 1017، وفي کتاب : العلم، باب : من سن سنة حسنة أو سيئة ومن دعا إلي هدي أوضلالة، 4 / 2059، الرقم : 1017، والنسائي في السنن، کتاب : الزکاة، باب : التحريض علي الصدقة، 5 / 75، الرقم : 2554، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب : من سن سنة حسنة أو سيئة، 1 / 74.75، الرقم : 203، 206، 207، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 358، والدارمي في السنن، 1 / 140، الرقم : 512، والبزار في المسند، 7 / 366، الرقم : 2963.
’’حضرت جَریر بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اسلام میں کسی نیک کام کی بنیاد ڈالے تو اس کے لئے اس کے اپنے اعمال کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں گے ان کا ثواب بھی ہے۔ بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے اور جس نے اسلام میں کسی بری بات کی ابتدا کی تو اس پر اس کے اپنے عمل کا بھی گناہ ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں گے اس پر ان کا گناہ بھی ہے۔ بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کچھ کمی ہو۔‘‘
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ دَعَا إِلَي هُدًي، کَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أُجُوْرِ مَنْ يَتَّبِعُهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا. وَمَنْ دَعَا إِلَي ضَلَ...الَةٍ، کَانَ عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ يَتَّبِعُهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
الحديث رقم 22 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : العلم، باب : من سن سنة حسنة أو سيئة، ومن دعا إلي هدي أو ضلالة، 4 / 2060، الرقم : 2674، والترمذي في السنن، کتاب : العلم عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء فيمن دعا إلي هدي فاتبع أو إلي ضلالة، 5 / 43، الرقم : 2674، وأبوداود في السنن کتاب : السنة، باب : لزوم السنة، 4 / 201، الرقم : 4609، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب : من سن سنة حسنة أو سيئة، 1 / 75، الرقم : 205 - 606، وابن حبان في الصحيح، باب : ذکر الحکم فيمن دعا إلي هدي أو ضلالة فاتبع عليه، 1 / 318، الرقم : 112، والدرمي في السنن، 1 / 141، الرقم : 513، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 397، الرقم : 9149، وأبو عوانة في المسند، 3 / 494، الرقم : 5823، وأبويعلي في المسند، 11 / 373، الرقم : 6489، واللالکائي في اعتقاد أهل السنة، 1 / 52، الرقم : 6، وابن أبي عاصم في السنة، 1 / 52، الرقم : 113.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے ہدایت کی طرف بلایا اس کے لئے اس راستے پر چلنے والوں کی مثل ثواب ہے اور ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا اور جس نے گناہ کی دعوت دی اس کے لئے بھی اتنا گناہ ہے جتنا اس بد عملی کا مرتکب ہونے والوں پر ہے اور ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘
عَنْ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ سَنَّ سُنَّةَ خَيْرٍ فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا، فَلَهُ أَجْرُهُ، وَمِثْلُ أُجُوْرِ مَنِ اتَّبًعَهُ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا، ...وَمَنْ سَنَّ سُنَّةَ شَرٍّ فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا، کَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ، وَمِثْلُ أَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَهُ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
الحديث رقم 23 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : العلم عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء فيمن دعا إلي هدي فاتبع أو إلي ضلالة، 5 / 43، الرقم : 2675، والعسقلاني في فتح الباري، 13 / 302، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 7 / 365، وابن حزم في المحلي، 8 / 116، وفي الإحکام في أصول الأحکام، 1 / 11.
’’حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا پھر اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لئے اپنا ثواب بھی ہے اور اسے عمل کرنے والوں کے برابر ثواب بھی ملے گا جبکہ ان کے ثواب میں کوئی کمی (بھی) نہ ہو گی اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا۔ پھر وہ طریقہ اپنایا گیا تو اس کے لئے اپنا گناہ بھی ہے اور ان لوگوں کے گناہ کے برابر بھی جو اس پر عمل پیرا ہوئے۔ بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی ہو۔‘‘
عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَنَّهُ مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيْتَتْ بَعْدِي، فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِهَا، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُ...صَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةَ ضَلَالَةٍ لَا تُرْضِي اﷲَ وَرَسُوْلَهُ، کَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ ذَلِکَ مَنْ أَوْزَارِ النَّاسِ شَيْئًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.
الحديث رقم 24 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : العلم عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في الأخذ بالسنة واجتناب البدع، 5 / 45، الرقم : 2677، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب : مَن أحيا سنّة قد أميتت، 1 / 76، الرقم : 209 - 210، والبزار في المسند، 8 / 314، الرقم : 3385، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 16، الرقم : 10، والبيهقي في الاعتقاد، 1 / 231، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 49، الرقم : 97.
’’حضرت بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے میرے بعد کوئی ایسی سنت زندہ کی جو مردہ ہو چکی تھی تو اس کے لئے بھی اتنا ہی اجر ہو گا جتنا اس پر دیگر عمل کرنے والوں کے لئے۔ باوجود اس کے ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جس نے گمراہی کی بدعت نکالی جسے اللہ عزوجل اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پسند نہیں کرتے تو اس پر اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس برائی کا دیگر ارتکاب کرنے والوں پر ہے اور اس سے ان کے گناہوں کے بوجھ میں بالکل کمی نہیں آئے گی۔‘‘
عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : فَمَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اﷲِ حَسَنٌ وَمَا رَآهُ الْمُؤْمِنُوْنَ قَبِيْحًا فَهُوَ عِنْدَ اﷲِ قَبِيْحٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ.
الحديث رقم 25 : ...أخرجه البزار في المسند، 5 / 212، الرقم : 1816، والطبراني في المعجم الکبير، 9 / 112، الرقم : 8583، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 379، الرقم : 3600، والحاکم في المستدرک، 3 / 83، الرقم : 4465، وأبونعيم في حلية الأولياء، 1 / 375، والبيهقي في المدخل إلي السنن الکبري، 1 / 114، وفي الاعتقاد، 1 / 322، والطيالسي في المسند، 1 / 33، الرقم : 246، وابن رجب في جامع العلوم والحکم، 1 / 254.
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جس (عمل) کو کوئی (ایک) مومن اچھا جانے وہ (عمل) اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اچھا ہے اور جس عمل کو (جماعت) مومنین برا جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی برا ہے۔‘‘
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی اُمت کے سامنے اِعلائے کلمۂ حق کیا اور اُنہیں شِرک سے باز آنے اور اﷲ وحدہ لا شریک کی وحدانیت کی طرف بلانا چاہا تو اُنہوں نے اپنی قوم کو مختلف معجزات دِکھائے۔ قرآنِ مجید میں آپ کی اس دعوت کا ذکر یوں آیا ہے :
أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللّهِ وَأُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ والْأَبْرَصَ وَأُحْيِـي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَO
بے شک میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہ اللہ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے۔ اور میں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفا یاب کرتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کر دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بے شک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہوo
(آل عمران، 3 : 49)
اس آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دستِ اقدس سے کل پانچ معجزات کے ظہور کا ذکر آیا ہے :
1۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اُسے زِندہ کرنا
2۔ مادر زاد اَندھے کا علاج
3۔ سفید داغ (برص) کا علاج
4۔ اِحیائے موتیٰ (مُردوں کو زندہ کرنا)
5۔ غیب کی خبریں سرِعام بتانا
یہ پانچ معجزات اللہ ربّ العزّت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے اور آپ علیہ السلام علی الاعلان ان کا اِظہار بھی فرمایا کرتے تھے، جس کی تصدیق خود باری تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمائی ہے۔ یہاں فقط اِتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ اِس آیتِ کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک نشانی لایا ہوں ’’أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم‘‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی مورت بناتا ہوں ’’أَجْعَلُ‘‘ کی بجائے ’’أَخْلُقُ‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا گیا۔ اگر آپ غور کریں تو مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں ساری بحث ہی حقیقت و مجاز کی ہے۔
حقیقی کارساز اللہ ربّ العزت ہی ہے مذکورہ بالاآیاتِ کریمہ میں بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مستعانِ حقیقی نہیں ہیں بلکہ اللہ ہی حقیقی مدد کرنے والا ہے۔ البتہ ان الفاظ کا اِستعمال فقط مجازا ہوا ہے اور ساری بحث الفاظ پر ہے، لہٰذا اُصول اور ضابطہ یہ ہوا کہ ایسے الفاظ کا اِستعمال مجازا جائز ہے۔ مذکورہ آیت میں تمام صیغے کلام کرنے والے کے ہیں مگر اِس کام کا حقیقت میں کارساز اللہ ہے گویا حقیقت باذن اللہ ہے۔ کلمات میں حقیقت و مجاز کی قرآنِ کریم کے حوالے سے یہ بہترین مثال ہے۔
کیا یہ معجزہ نہیں؟ اِس موقع پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا ماجرا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہے اور اِستغاثہ کی بحث میں معجزے کا کیا کام کیونکہ اُس سے تو یہاں بحث ہی نہیں۔ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ’’معجزہ تو مریضوں کا شفایاب ہوجانا ہے نہ کہ اُن کا اپنی طرف شفا دینے کی نسبت کرنا‘‘۔ اصل بات یہی ہے کہ اُن کا اپنی طرف ان مافوق الفطرت اَعمال کی نسبت کرنا مجاز ہے اور شِفا اور بیماری درحقیقت اﷲ ربّ العزّت کی طرف سے ہے۔ جب یہ بات اٹل ہے کہ مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو شفاء دینے والا اللہ تبارک و تعالی ہی ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں فرمایا کہ ’’میں شفا دیتا ہوں‘‘؟ چاہیئے تو یوں تھا کہ اِرشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پھیرنے سے مادرزاد اَندھے کو بینائی دیتا ہے اور کوڑھی کو شفا عطا فرماتا ہے، معجزے کی شانِ اعجازی میں تب بھی کوئی فرق نہ آتا مگر اُنہوں نے مجازاً اِن اَلفاظ کی نسبت اپنی طرف کی۔
چوتھا قول اُنہوں نے فرمایا : وَ أُحْیِ الْمَوْتٰی بِإِذْنِ اﷲِ ’’ اور میں مُردوں کو اﷲ کے اِذن سے زندہ کرتا ہوں‘‘۔ یہاں تو اِنتہاء ہوگئی۔۔۔ ایسا نہیں فرمایا کہ تم مُردہ لے آؤ، میں اللہ سے اِلتجاء کروں گا، اللہ میری دُعا سے زندہ کردے گا، بلکہ یوں اِرشاد فرمایا : ’’میں مُردوں کو اللہ کے اِذن سے زِندہ کرتا ہوں‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ان صیغوں اور کلمات کا اِستعمال اور اُن کی کسی فردِ بشر کی طرف نسبت مجازی طور پر جائز ہے۔ مذکورہ آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی طرف اِن اَعمال و اَفعال کی نسبت کرنا نسبتِ مجازی ہونے کی بناء پر درست ہے اور اِسی آیت کے دُوسرے حصے میں آپ نے بِإِذْنِ اﷲ کے اَلفاظ کے ذریعے حقیقی کارساز اللہ ربّ العزّت ہی کو قرار دیا۔
پانچویں بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ فرمائی : وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ’’اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو‘‘۔ اس میں کوئی ذِکر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مطلع فرمانے سے ایسا کرتا ہوں، بلکہ فرمایا : أُنَبِّئُكُم میں تمہیں خبر دیتا ہوں۔ اِن الفاظ میں صراحت کے ساتھ علمِ غیب کا پہلو پایا گیا کیونکہ اِس بات کا علم کہ کسی نے کون سی چیز کھائی ہے علمِ غیب ہے جو باری تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یوں نہیں فرمایا کہ خداوندِ قدّوس مجھے آگاہ فرماتا ہے۔ اگرچہ واقعتا حقیقت یہی ہے کہ اﷲ ہی آگاہ کرتا ہے مگر اُنہوں نے اِس بات کا اپنے اَلفاظ میں اِظہار نہیں فرمایا اور مجازی طور پر اِس غیب کی نسبت اپنی طرف کی، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ غیراﷲ کی طرف علمِ غیب کی نسبت مجازی طور پر جائز ہے ورنہ رسولِ خدا سے یہ فعل ہرگز سرزد نہ ہوتا۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے دعوی نبوت کے سلسلے میں جو اِعلانات فرمائے آج کے نام نہاد مؤحّدین کے مؤقف کی روشنی میں وہ سب کے سب شِرک کی زد میں آئے بغیر نہیں رہتے۔ اِس طرح کے طرزِ فکر سے تو اَنبیائے کرام جو خالصتاً توحید ہی کا پیغامِ سرمدی لے کر انسانیت کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں، اُن کی قبائے عصمتِ نبوّت بھی تار تار ہوئے بغیر نہیں رہتی اور وہ بھی شِرک کے فتویٰ سے نہیں بچ سکتے۔
اﷲ تعالیٰ پر شِرک کا فتویٰ؟سورۂ آل عمران کی مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے اَلفاظ مذکور ہیں کہ میں اللہ کے اِذن سے مُردے زِندہ کرتا ہوں، مٹی سے پرندوں کی مُورتیں بنا کر اُن میں جان ڈالتا ہوں وغیرہ، مگر مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں تو خود اللہ تعالیٰ بھی اُن کے اِس فعل کی تصدیق فرما رہا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي
اور جب تم میرے حکم سے مٹی کے گارے سے پرندے کی شکل کی مانند (مورتی) بناتے تھے۔
(المائده، 5 : 110)
اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ اے عیسیٰ علیک السلام میں نے تیرے لئے مٹی کے پرندے بنائے اور زِندہ کر دیئے، تیرے لئے مادر زاد اَندھوں کو بینائی دی اور برص زدہ لوگوں کو شفا دی۔ با وجود یہ کہ اللہ تعالی توحیدِ خالص کے حامل سادہ لوح مؤحّدین کی حسبِ خواہش حقیقت پر مبنی اِس اُسلوب کو اپنا بھی سکتا تھا، مگر اِس کے باوجود اُس خالق و مالک نے فرمایا :
فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي
پھر تم اس میں سے پھونک مارتے تھے تو وہ (مورتی) میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔
(المائده، 5 : 110)
رُوح پھونکنا دَرحقیقت فعلِ اِلٰہی ہےیہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی میں رُوح پھونکنا اور جان ڈالنا خالقِ کائنات ہی کا کام ہے۔ مگر اُس نے خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا : فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ’’پھر تو اُس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اُڑنے لگتی‘‘ وَتُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ’’اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے‘‘ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي ’’اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو ( زِندہ کرکے قبر سے) نکال (کھڑا کر) دیتے تھے‘‘۔ اِن آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے کلمات کا غیراﷲ پر اِطلاق مجازاً جائز ہے۔ اِن کلمات کو خود اللہ ربّ العزّت نے اِستعمال فرمایا اور انبیائے کرام علیھم السلام نے بھی اِستعمال کیا حالانکہ ایسے کلمات کی ادائیگی فرمانا اُن کی مجبوری نہ تھی۔ اﷲ ربّ العزّت کا اپنے کلامِ مجید میں اِن اَلفاظ کو مجازی معنی میں اِستعمال کرنا نہ صرف مجازی معنی کے جواز کا سب سے بڑا ثبوت ہے بلکہ اس کے سنتِ اِلٰہیہ ہونے پر بھی دالّ ہے۔
اِس ساری بحث سے ظاہری اور باطنی اَسباب کے لئے ایک خاص ضابطہ بھی میسر آتا ہے کہ تمام مافوق الاسباب اُمور میں اَلفاظ اگرچہ براہِ راست بندے اور مخلوق کی طرف منسوب ہوں تب بھی فاعلِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو گردانا جائیگا کیونکہ کارسازِ حقیقی وُہی ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی اُمت کے سامنے اِعلائے کلمۂ حق کیا اور اُنہیں شِرک سے باز آنے اور اﷲ وحدہ لا شریک کی وحدانیت کی طرف بلانا چاہا تو اُنہوں نے اپنی قوم کو مختلف معجزات دِکھائے۔ قرآنِ مجید میں آپ کی اس دعوت کا ذکر یوں آیا ہے : أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللّهِ وَأُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ والْأَبْرَصَ وَأُحْيِـي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَOبے شک میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہ اللہ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے۔ اور میں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفا یاب کرتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کر دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بے شک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہوo (آل عمران، 3 : 49) اس آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دستِ اقدس سے کل پانچ معجزات کے ظہور کا ذکر آیا ہے : 1۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اُسے زِندہ کرنا2۔ مادر زاد اَندھے کا علاج3۔ سفید داغ (برص) کا علاج4۔ اِحیائے موتیٰ (مُردوں کو زندہ کرنا)5۔ غیب کی خبریں سرِعام بتانایہ پانچ معجزات اللہ ربّ العزّت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے اور آپ علیہ السلام علی الاعلان ان کا اِظہار بھی فرمایا کرتے تھے، جس کی تصدیق خود باری تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمائی ہے۔ یہاں فقط اِتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ اِس آیتِ کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک نشانی لایا ہوں ’’أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم‘‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی مورت بناتا ہوں ’’أَجْعَلُ‘‘ کی بجائے ’’أَخْلُقُ‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا گیا۔ اگر آپ غور کریں تو مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں ساری بحث ہی حقیقت و مجاز کی ہے۔ حقیقی کارساز اللہ ربّ العزت ہی ہے مذکورہ بالاآیاتِ کریمہ میں بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مستعانِ حقیقی نہیں ہیں بلکہ اللہ ہی حقیقی مدد کرنے والا ہے۔ البتہ ان الفاظ کا اِستعمال فقط مجازا ہوا ہے اور ساری بحث الفاظ پر ہے، لہٰذا اُصول اور ضابطہ یہ ہوا کہ ایسے الفاظ کا اِستعمال مجازا جائز ہے۔ مذکورہ آیت میں تمام صیغے کلام کرنے والے کے ہیں مگر اِس کام کا حقیقت میں کارساز اللہ ہے گویا حقیقت باذن اللہ ہے۔ کلمات میں حقیقت و مجاز کی قرآنِ کریم کے حوالے سے یہ بہترین مثال ہے۔ کیا یہ معجزہ نہیں؟ اِس موقع پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا ماجرا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہے اور اِستغاثہ کی بحث میں معجزے کا کیا کام کیونکہ اُس سے تو یہاں بحث ہی نہیں۔ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ’’معجزہ تو مریضوں کا شفایاب ہوجانا ہے نہ کہ اُن کا اپنی طرف شفا دینے کی نسبت کرنا‘‘۔ اصل بات یہی ہے کہ اُن کا اپنی طرف ان مافوق الفطرت اَعمال کی نسبت کرنا مجاز ہے اور شِفا اور بیماری درحقیقت اﷲ ربّ العزّت کی طرف سے ہے۔ جب یہ بات اٹل ہے کہ مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو شفاء دینے والا اللہ تبارک و تعالی ہی ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں فرمایا کہ ’’میں شفا دیتا ہوں‘‘؟ چاہیئے تو یوں تھا کہ اِرشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پھیرنے سے مادرزاد اَندھے کو بینائی دیتا ہے اور کوڑھی کو شفا عطا فرماتا ہے، معجزے کی شانِ اعجازی میں تب بھی کوئی فرق نہ آتا مگر اُنہوں نے مجازاً اِن اَلفاظ کی نسبت اپنی طرف کی۔ چوتھا قول اُنہوں نے فرمایا : وَ أُحْیِ الْمَوْتٰی بِإِذْنِ اﷲِ ’’ اور میں مُردوں کو اﷲ کے اِذن سے زندہ کرتا ہوں‘‘۔ یہاں تو اِنتہاء ہوگئی۔۔۔ ایسا نہیں فرمایا کہ تم مُردہ لے آؤ، میں اللہ سے اِلتجاء کروں گا، اللہ میری دُعا سے زندہ کردے گا، بلکہ یوں اِرشاد فرمایا : ’’میں مُردوں کو اللہ کے اِذن سے زِندہ کرتا ہوں‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ان صیغوں اور کلمات کا اِستعمال اور اُن کی کسی فردِ بشر کی طرف نسبت مجازی طور پر جائز ہے۔ مذکورہ آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی طرف اِن اَعمال و اَفعال کی نسبت کرنا نسبتِ مجازی ہونے کی بناء پر درست ہے اور اِسی آیت کے دُوسرے حصے میں آپ نے بِإِذْنِ اﷲ کے اَلفاظ کے ذریعے حقیقی کارساز اللہ ربّ العزّت ہی کو قرار دیا۔ پانچویں بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ فرمائی : وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ’’اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو‘‘۔ اس میں کوئی ذِکر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مطلع فرمانے سے ایسا کرتا ہوں، بلکہ فرمایا : أُنَبِّئُكُم میں تمہیں خبر دیتا ہوں۔ اِن الفاظ میں صراحت کے ساتھ علمِ غیب کا پہلو پایا گیا کیونکہ اِس بات کا علم کہ کسی نے کون سی چیز کھائی ہے علمِ غیب ہے جو باری تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یوں نہیں فرمایا کہ خداوندِ قدّوس مجھے آگاہ فرماتا ہے۔ اگرچہ واقعتا حقیقت یہی ہے کہ اﷲ ہی آگاہ کرتا ہے مگر اُنہوں نے اِس بات کا اپنے اَلفاظ میں اِظہار نہیں فرمایا اور مجازی طور پر اِس غیب کی نسبت اپنی طرف کی، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ غیراﷲ کی طرف علمِ غیب کی نسبت مجازی طور پر جائز ہے ورنہ رسولِ خدا سے یہ فعل ہرگز سرزد نہ ہوتا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے دعوی نبوت کے سلسلے میں جو اِعلانات فرمائے آج کے نام نہاد مؤحّدین کے مؤقف کی روشنی میں وہ سب کے سب شِرک کی زد میں آئے بغیر نہیں رہتے۔ اِس طرح کے طرزِ فکر سے تو اَنبیائے کرام جو خالصتاً توحید ہی کا پیغامِ سرمدی لے کر انسانیت کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں، اُن کی قبائے عصمتِ نبوّت بھی تار تار ہوئے بغیر نہیں رہتی اور وہ بھی شِرک کے فتویٰ سے نہیں بچ سکتے۔اﷲ تعالیٰ پر شِرک کا فتویٰ؟سورۂ آل عمران کی مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے اَلفاظ مذکور ہیں کہ میں اللہ کے اِذن سے مُردے زِندہ کرتا ہوں، مٹی سے پرندوں کی مُورتیں بنا کر اُن میں جان ڈالتا ہوں وغیرہ، مگر مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں تو خود اللہ تعالیٰ بھی اُن کے اِس فعل کی تصدیق فرما رہا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے : وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي اور جب تم میرے حکم سے مٹی کے گارے سے پرندے کی شکل کی مانند (مورتی) بناتے تھے۔ (المائده، 5 : 110) اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ اے عیسیٰ علیک السلام میں نے تیرے لئے مٹی کے پرندے بنائے اور زِندہ کر دیئے، تیرے لئے مادر زاد اَندھوں کو بینائی دی اور برص زدہ لوگوں کو شفا دی۔ با وجود یہ کہ اللہ تعالی توحیدِ خالص کے حامل سادہ لوح مؤحّدین کی حسبِ خواہش حقیقت پر مبنی اِس اُسلوب کو اپنا بھی سکتا تھا، مگر اِس کے باوجود اُس خالق و مالک نے فرمایا : فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي پھر تم اس میں سے پھونک مارتے تھے تو وہ (مورتی) میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔(المائده، 5 : 110) رُوح پھونکنا دَرحقیقت فعلِ اِلٰہی ہےیہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی میں رُوح پھونکنا اور جان ڈالنا خالقِ کائنات ہی کا کام ہے۔ مگر اُس نے خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا : فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ’’پھر تو اُس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اُڑنے لگتی‘‘ وَتُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ’’اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے‘‘ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي ’’اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو ( زِندہ کرکے قبر سے) نکال (کھڑا کر) دیتے تھے‘‘۔ اِن آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے کلمات کا غیراﷲ پر اِطلاق مجازاً جائز ہے۔ اِن کلمات کو خود اللہ ربّ العزّت نے اِستعمال فرمایا اور انبیائے کرام علیھم السلام نے بھی اِستعمال کیا حالانکہ ایسے کلمات کی ادائیگی فرمانا اُن کی مجبوری نہ تھی۔ اﷲ ربّ العزّت کا اپنے کلامِ مجید میں اِن اَلفاظ کو مجازی معنی میں اِستعمال کرنا نہ صرف مجازی معنی کے جواز کا سب سے بڑا ثبوت ہے بلکہ اس کے سنتِ اِلٰہیہ ہونے پر بھی دالّ ہے۔ اِس ساری بحث سے ظاہری اور باطنی اَسباب کے لئے ایک خاص ضابطہ بھی میسر آتا ہے کہ تمام مافوق الاسباب اُمور میں اَلفاظ اگرچہ براہِ راست بندے اور مخلوق کی طرف منسوب ہوں تب بھی فاعلِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو گردانا جائیگا کیونکہ کارسازِ حقیقی وُہی ہے۔
أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللّهِ وَأُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ والْأَبْرَصَ وَأُحْيِـي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَO
بے شک میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہ اللہ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے۔ اور میں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفا یاب کرتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کر دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بے شک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہوo
(آل عمران، 3 : 49)
اس آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دستِ اقدس سے کل پانچ معجزات کے ظہور کا ذکر آیا ہے :
1۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اُسے زِندہ کرنا
2۔ مادر زاد اَندھے کا علاج
3۔ سفید داغ (برص) کا علاج
4۔ اِحیائے موتیٰ (مُردوں کو زندہ کرنا)
5۔ غیب کی خبریں سرِعام بتانا
یہ پانچ معجزات اللہ ربّ العزّت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے اور آپ علیہ السلام علی الاعلان ان کا اِظہار بھی فرمایا کرتے تھے، جس کی تصدیق خود باری تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمائی ہے۔ یہاں فقط اِتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ اِس آیتِ کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک نشانی لایا ہوں ’’أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم‘‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی مورت بناتا ہوں ’’أَجْعَلُ‘‘ کی بجائے ’’أَخْلُقُ‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا گیا۔ اگر آپ غور کریں تو مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں ساری بحث ہی حقیقت و مجاز کی ہے۔
حقیقی کارساز اللہ ربّ العزت ہی ہے مذکورہ بالاآیاتِ کریمہ میں بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مستعانِ حقیقی نہیں ہیں بلکہ اللہ ہی حقیقی مدد کرنے والا ہے۔ البتہ ان الفاظ کا اِستعمال فقط مجازا ہوا ہے اور ساری بحث الفاظ پر ہے، لہٰذا اُصول اور ضابطہ یہ ہوا کہ ایسے الفاظ کا اِستعمال مجازا جائز ہے۔ مذکورہ آیت میں تمام صیغے کلام کرنے والے کے ہیں مگر اِس کام کا حقیقت میں کارساز اللہ ہے گویا حقیقت باذن اللہ ہے۔ کلمات میں حقیقت و مجاز کی قرآنِ کریم کے حوالے سے یہ بہترین مثال ہے۔
کیا یہ معجزہ نہیں؟ اِس موقع پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا ماجرا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہے اور اِستغاثہ کی بحث میں معجزے کا کیا کام کیونکہ اُس سے تو یہاں بحث ہی نہیں۔ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ’’معجزہ تو مریضوں کا شفایاب ہوجانا ہے نہ کہ اُن کا اپنی طرف شفا دینے کی نسبت کرنا‘‘۔ اصل بات یہی ہے کہ اُن کا اپنی طرف ان مافوق الفطرت اَعمال کی نسبت کرنا مجاز ہے اور شِفا اور بیماری درحقیقت اﷲ ربّ العزّت کی طرف سے ہے۔ جب یہ بات اٹل ہے کہ مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو شفاء دینے والا اللہ تبارک و تعالی ہی ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں فرمایا کہ ’’میں شفا دیتا ہوں‘‘؟ چاہیئے تو یوں تھا کہ اِرشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پھیرنے سے مادرزاد اَندھے کو بینائی دیتا ہے اور کوڑھی کو شفا عطا فرماتا ہے، معجزے کی شانِ اعجازی میں تب بھی کوئی فرق نہ آتا مگر اُنہوں نے مجازاً اِن اَلفاظ کی نسبت اپنی طرف کی۔
چوتھا قول اُنہوں نے فرمایا : وَ أُحْیِ الْمَوْتٰی بِإِذْنِ اﷲِ ’’ اور میں مُردوں کو اﷲ کے اِذن سے زندہ کرتا ہوں‘‘۔ یہاں تو اِنتہاء ہوگئی۔۔۔ ایسا نہیں فرمایا کہ تم مُردہ لے آؤ، میں اللہ سے اِلتجاء کروں گا، اللہ میری دُعا سے زندہ کردے گا، بلکہ یوں اِرشاد فرمایا : ’’میں مُردوں کو اللہ کے اِذن سے زِندہ کرتا ہوں‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ان صیغوں اور کلمات کا اِستعمال اور اُن کی کسی فردِ بشر کی طرف نسبت مجازی طور پر جائز ہے۔ مذکورہ آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی طرف اِن اَعمال و اَفعال کی نسبت کرنا نسبتِ مجازی ہونے کی بناء پر درست ہے اور اِسی آیت کے دُوسرے حصے میں آپ نے بِإِذْنِ اﷲ کے اَلفاظ کے ذریعے حقیقی کارساز اللہ ربّ العزّت ہی کو قرار دیا۔
پانچویں بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ فرمائی : وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ’’اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو‘‘۔ اس میں کوئی ذِکر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مطلع فرمانے سے ایسا کرتا ہوں، بلکہ فرمایا : أُنَبِّئُكُم میں تمہیں خبر دیتا ہوں۔ اِن الفاظ میں صراحت کے ساتھ علمِ غیب کا پہلو پایا گیا کیونکہ اِس بات کا علم کہ کسی نے کون سی چیز کھائی ہے علمِ غیب ہے جو باری تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یوں نہیں فرمایا کہ خداوندِ قدّوس مجھے آگاہ فرماتا ہے۔ اگرچہ واقعتا حقیقت یہی ہے کہ اﷲ ہی آگاہ کرتا ہے مگر اُنہوں نے اِس بات کا اپنے اَلفاظ میں اِظہار نہیں فرمایا اور مجازی طور پر اِس غیب کی نسبت اپنی طرف کی، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ غیراﷲ کی طرف علمِ غیب کی نسبت مجازی طور پر جائز ہے ورنہ رسولِ خدا سے یہ فعل ہرگز سرزد نہ ہوتا۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے دعوی نبوت کے سلسلے میں جو اِعلانات فرمائے آج کے نام نہاد مؤحّدین کے مؤقف کی روشنی میں وہ سب کے سب شِرک کی زد میں آئے بغیر نہیں رہتے۔ اِس طرح کے طرزِ فکر سے تو اَنبیائے کرام جو خالصتاً توحید ہی کا پیغامِ سرمدی لے کر انسانیت کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں، اُن کی قبائے عصمتِ نبوّت بھی تار تار ہوئے بغیر نہیں رہتی اور وہ بھی شِرک کے فتویٰ سے نہیں بچ سکتے۔
اﷲ تعالیٰ پر شِرک کا فتویٰ؟سورۂ آل عمران کی مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے اَلفاظ مذکور ہیں کہ میں اللہ کے اِذن سے مُردے زِندہ کرتا ہوں، مٹی سے پرندوں کی مُورتیں بنا کر اُن میں جان ڈالتا ہوں وغیرہ، مگر مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں تو خود اللہ تعالیٰ بھی اُن کے اِس فعل کی تصدیق فرما رہا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي
اور جب تم میرے حکم سے مٹی کے گارے سے پرندے کی شکل کی مانند (مورتی) بناتے تھے۔
(المائده، 5 : 110)
اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ اے عیسیٰ علیک السلام میں نے تیرے لئے مٹی کے پرندے بنائے اور زِندہ کر دیئے، تیرے لئے مادر زاد اَندھوں کو بینائی دی اور برص زدہ لوگوں کو شفا دی۔ با وجود یہ کہ اللہ تعالی توحیدِ خالص کے حامل سادہ لوح مؤحّدین کی حسبِ خواہش حقیقت پر مبنی اِس اُسلوب کو اپنا بھی سکتا تھا، مگر اِس کے باوجود اُس خالق و مالک نے فرمایا :
فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي
پھر تم اس میں سے پھونک مارتے تھے تو وہ (مورتی) میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔
(المائده، 5 : 110)
رُوح پھونکنا دَرحقیقت فعلِ اِلٰہی ہےیہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی میں رُوح پھونکنا اور جان ڈالنا خالقِ کائنات ہی کا کام ہے۔ مگر اُس نے خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا : فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ’’پھر تو اُس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اُڑنے لگتی‘‘ وَتُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ’’اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے‘‘ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي ’’اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو ( زِندہ کرکے قبر سے) نکال (کھڑا کر) دیتے تھے‘‘۔ اِن آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے کلمات کا غیراﷲ پر اِطلاق مجازاً جائز ہے۔ اِن کلمات کو خود اللہ ربّ العزّت نے اِستعمال فرمایا اور انبیائے کرام علیھم السلام نے بھی اِستعمال کیا حالانکہ ایسے کلمات کی ادائیگی فرمانا اُن کی مجبوری نہ تھی۔ اﷲ ربّ العزّت کا اپنے کلامِ مجید میں اِن اَلفاظ کو مجازی معنی میں اِستعمال کرنا نہ صرف مجازی معنی کے جواز کا سب سے بڑا ثبوت ہے بلکہ اس کے سنتِ اِلٰہیہ ہونے پر بھی دالّ ہے۔
اِس ساری بحث سے ظاہری اور باطنی اَسباب کے لئے ایک خاص ضابطہ بھی میسر آتا ہے کہ تمام مافوق الاسباب اُمور میں اَلفاظ اگرچہ براہِ راست بندے اور مخلوق کی طرف منسوب ہوں تب بھی فاعلِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو گردانا جائیگا کیونکہ کارسازِ حقیقی وُہی ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی اُمت کے سامنے اِعلائے کلمۂ حق کیا اور اُنہیں شِرک سے باز آنے اور اﷲ وحدہ لا شریک کی وحدانیت کی طرف بلانا چاہا تو اُنہوں نے اپنی قوم کو مختلف معجزات دِکھائے۔ قرآنِ مجید میں آپ کی اس دعوت کا ذکر یوں آیا ہے : أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللّهِ وَأُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ والْأَبْرَصَ وَأُحْيِـي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَOبے شک میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہ اللہ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے۔ اور میں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفا یاب کرتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کر دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بے شک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہوo (آل عمران، 3 : 49) اس آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دستِ اقدس سے کل پانچ معجزات کے ظہور کا ذکر آیا ہے : 1۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اُسے زِندہ کرنا2۔ مادر زاد اَندھے کا علاج3۔ سفید داغ (برص) کا علاج4۔ اِحیائے موتیٰ (مُردوں کو زندہ کرنا)5۔ غیب کی خبریں سرِعام بتانایہ پانچ معجزات اللہ ربّ العزّت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے اور آپ علیہ السلام علی الاعلان ان کا اِظہار بھی فرمایا کرتے تھے، جس کی تصدیق خود باری تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمائی ہے۔ یہاں فقط اِتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ اِس آیتِ کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک نشانی لایا ہوں ’’أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم‘‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی مورت بناتا ہوں ’’أَجْعَلُ‘‘ کی بجائے ’’أَخْلُقُ‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا گیا۔ اگر آپ غور کریں تو مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں ساری بحث ہی حقیقت و مجاز کی ہے۔ حقیقی کارساز اللہ ربّ العزت ہی ہے مذکورہ بالاآیاتِ کریمہ میں بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مستعانِ حقیقی نہیں ہیں بلکہ اللہ ہی حقیقی مدد کرنے والا ہے۔ البتہ ان الفاظ کا اِستعمال فقط مجازا ہوا ہے اور ساری بحث الفاظ پر ہے، لہٰذا اُصول اور ضابطہ یہ ہوا کہ ایسے الفاظ کا اِستعمال مجازا جائز ہے۔ مذکورہ آیت میں تمام صیغے کلام کرنے والے کے ہیں مگر اِس کام کا حقیقت میں کارساز اللہ ہے گویا حقیقت باذن اللہ ہے۔ کلمات میں حقیقت و مجاز کی قرآنِ کریم کے حوالے سے یہ بہترین مثال ہے۔ کیا یہ معجزہ نہیں؟ اِس موقع پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا ماجرا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہے اور اِستغاثہ کی بحث میں معجزے کا کیا کام کیونکہ اُس سے تو یہاں بحث ہی نہیں۔ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ’’معجزہ تو مریضوں کا شفایاب ہوجانا ہے نہ کہ اُن کا اپنی طرف شفا دینے کی نسبت کرنا‘‘۔ اصل بات یہی ہے کہ اُن کا اپنی طرف ان مافوق الفطرت اَعمال کی نسبت کرنا مجاز ہے اور شِفا اور بیماری درحقیقت اﷲ ربّ العزّت کی طرف سے ہے۔ جب یہ بات اٹل ہے کہ مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو شفاء دینے والا اللہ تبارک و تعالی ہی ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں فرمایا کہ ’’میں شفا دیتا ہوں‘‘؟ چاہیئے تو یوں تھا کہ اِرشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پھیرنے سے مادرزاد اَندھے کو بینائی دیتا ہے اور کوڑھی کو شفا عطا فرماتا ہے، معجزے کی شانِ اعجازی میں تب بھی کوئی فرق نہ آتا مگر اُنہوں نے مجازاً اِن اَلفاظ کی نسبت اپنی طرف کی۔ چوتھا قول اُنہوں نے فرمایا : وَ أُحْیِ الْمَوْتٰی بِإِذْنِ اﷲِ ’’ اور میں مُردوں کو اﷲ کے اِذن سے زندہ کرتا ہوں‘‘۔ یہاں تو اِنتہاء ہوگئی۔۔۔ ایسا نہیں فرمایا کہ تم مُردہ لے آؤ، میں اللہ سے اِلتجاء کروں گا، اللہ میری دُعا سے زندہ کردے گا، بلکہ یوں اِرشاد فرمایا : ’’میں مُردوں کو اللہ کے اِذن سے زِندہ کرتا ہوں‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ان صیغوں اور کلمات کا اِستعمال اور اُن کی کسی فردِ بشر کی طرف نسبت مجازی طور پر جائز ہے۔ مذکورہ آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی طرف اِن اَعمال و اَفعال کی نسبت کرنا نسبتِ مجازی ہونے کی بناء پر درست ہے اور اِسی آیت کے دُوسرے حصے میں آپ نے بِإِذْنِ اﷲ کے اَلفاظ کے ذریعے حقیقی کارساز اللہ ربّ العزّت ہی کو قرار دیا۔ پانچویں بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ فرمائی : وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ’’اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو‘‘۔ اس میں کوئی ذِکر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مطلع فرمانے سے ایسا کرتا ہوں، بلکہ فرمایا : أُنَبِّئُكُم میں تمہیں خبر دیتا ہوں۔ اِن الفاظ میں صراحت کے ساتھ علمِ غیب کا پہلو پایا گیا کیونکہ اِس بات کا علم کہ کسی نے کون سی چیز کھائی ہے علمِ غیب ہے جو باری تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یوں نہیں فرمایا کہ خداوندِ قدّوس مجھے آگاہ فرماتا ہے۔ اگرچہ واقعتا حقیقت یہی ہے کہ اﷲ ہی آگاہ کرتا ہے مگر اُنہوں نے اِس بات کا اپنے اَلفاظ میں اِظہار نہیں فرمایا اور مجازی طور پر اِس غیب کی نسبت اپنی طرف کی، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ غیراﷲ کی طرف علمِ غیب کی نسبت مجازی طور پر جائز ہے ورنہ رسولِ خدا سے یہ فعل ہرگز سرزد نہ ہوتا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے دعوی نبوت کے سلسلے میں جو اِعلانات فرمائے آج کے نام نہاد مؤحّدین کے مؤقف کی روشنی میں وہ سب کے سب شِرک کی زد میں آئے بغیر نہیں رہتے۔ اِس طرح کے طرزِ فکر سے تو اَنبیائے کرام جو خالصتاً توحید ہی کا پیغامِ سرمدی لے کر انسانیت کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں، اُن کی قبائے عصمتِ نبوّت بھی تار تار ہوئے بغیر نہیں رہتی اور وہ بھی شِرک کے فتویٰ سے نہیں بچ سکتے۔اﷲ تعالیٰ پر شِرک کا فتویٰ؟سورۂ آل عمران کی مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے اَلفاظ مذکور ہیں کہ میں اللہ کے اِذن سے مُردے زِندہ کرتا ہوں، مٹی سے پرندوں کی مُورتیں بنا کر اُن میں جان ڈالتا ہوں وغیرہ، مگر مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں تو خود اللہ تعالیٰ بھی اُن کے اِس فعل کی تصدیق فرما رہا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے : وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي اور جب تم میرے حکم سے مٹی کے گارے سے پرندے کی شکل کی مانند (مورتی) بناتے تھے۔ (المائده، 5 : 110) اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ اے عیسیٰ علیک السلام میں نے تیرے لئے مٹی کے پرندے بنائے اور زِندہ کر دیئے، تیرے لئے مادر زاد اَندھوں کو بینائی دی اور برص زدہ لوگوں کو شفا دی۔ با وجود یہ کہ اللہ تعالی توحیدِ خالص کے حامل سادہ لوح مؤحّدین کی حسبِ خواہش حقیقت پر مبنی اِس اُسلوب کو اپنا بھی سکتا تھا، مگر اِس کے باوجود اُس خالق و مالک نے فرمایا : فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي پھر تم اس میں سے پھونک مارتے تھے تو وہ (مورتی) میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔(المائده، 5 : 110) رُوح پھونکنا دَرحقیقت فعلِ اِلٰہی ہےیہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی میں رُوح پھونکنا اور جان ڈالنا خالقِ کائنات ہی کا کام ہے۔ مگر اُس نے خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا : فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ’’پھر تو اُس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اُڑنے لگتی‘‘ وَتُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ’’اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے‘‘ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي ’’اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو ( زِندہ کرکے قبر سے) نکال (کھڑا کر) دیتے تھے‘‘۔ اِن آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے کلمات کا غیراﷲ پر اِطلاق مجازاً جائز ہے۔ اِن کلمات کو خود اللہ ربّ العزّت نے اِستعمال فرمایا اور انبیائے کرام علیھم السلام نے بھی اِستعمال کیا حالانکہ ایسے کلمات کی ادائیگی فرمانا اُن کی مجبوری نہ تھی۔ اﷲ ربّ العزّت کا اپنے کلامِ مجید میں اِن اَلفاظ کو مجازی معنی میں اِستعمال کرنا نہ صرف مجازی معنی کے جواز کا سب سے بڑا ثبوت ہے بلکہ اس کے سنتِ اِلٰہیہ ہونے پر بھی دالّ ہے۔ اِس ساری بحث سے ظاہری اور باطنی اَسباب کے لئے ایک خاص ضابطہ بھی میسر آتا ہے کہ تمام مافوق الاسباب اُمور میں اَلفاظ اگرچہ براہِ راست بندے اور مخلوق کی طرف منسوب ہوں تب بھی فاعلِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو گردانا جائیگا کیونکہ کارسازِ حقیقی وُہی ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)