عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه کَانَ إِذَا قُحِطُوْا اسْتَسْقَي بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي اﷲ عنهما فَقَالَ : اَللَّهُمَّ إِنَّا کَنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْکَ بِنَبِيِنَا فَتَسْقِيْنَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْکَ بِعَمِّ نَبِيِنَا فَاسْقِنَا، قَالَ : فَيُسْقَوْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ.
الحديث رقم 57 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستسقاء، باب : سُؤَالِ النَّاسِ الإمام الاستسقاء إِذا قَحَطُوا، 1 / 342، الرقم : 964، وفي کتاب : فضائل الصحابة، باب : ذکر العَبَّاسِ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رضي اﷲ عنهما، 3 / 1360، الرقم : 3507، وابن خزيمة في الصحيح، 2 / 337، الرقم : 1421، وابن حبان في الصحيح، 7 / 110، الرقم : 2861، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 49، الرقم : 2437، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 352، الرقم : 6220، والشيباني في الآحاد والمثاني، 1 / 270، الرقم : 351، واللالکائي في کرامات الأولياء، 1 / 135، الرقم : 87 وابن عبد البر في الاستيعاب، 2 / 814، وابن جرير الطبري في تاريخ الأمم والملوک، 4 / 433.
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قحط پڑ جاتا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے اور عرض کرتے : اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ پکڑا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برسا دیتا تھا اور اب ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معزز چچا جان کو وسیلہ بناتے ہیں کہ تو ہم پر بارش برسا۔ فرمایا : تو ان پر بارش برسا دی جاتی۔‘‘
606 / 58. عَنْ عَبْدِ اﷲِ ابْنِ دِيْنَارٍ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ أَبِي طَالِبٍ :
وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَي الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَي عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ : حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيْهِ : رُبَّمَا ذَکَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ، وَاَنَا أَنْظُرُ إِلَي وَجْهِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّي يَجِيْشَ کُلُّ مِيْزَابٍ.
وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَي الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَي عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.
الحديث رقم 58 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستسقاء، باب : سُؤَالِ النَّاسِ الإِمَامَ الإستسقاءَ إذا قَحَطُوا، 1 / 342، الرقم : 963، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، باب : ماجاء في الدعاء في الاستسقاء، 1 / 405، الرقم : 1272، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 93، الرقم : 5673، 26، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 352، الرقم : 6218 - 6219، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 14 / 386، الرقم : 7700، والعسقلاني في تغليق التعليق، 2 / 389، الرقم : 1009، وابن کثير في البداية والنهاية، 4 / 2، 471، والمزي في تحفة الأشراف، 5 / 359، الرقم : 6775.
’’حضرت عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو حضرت ابوطالب کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا :
’’وہ گورے (مکھڑے والے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جن کے چہرے کے توسل سے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کے والی، بیواؤں کے سہارا ہیں۔‘‘
حضرت عمر بن حمزہ کہتے ہیں کہ حضرت سالم (بن عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنھم) نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ کبھی میں شاعر کی اس بات کو یاد کرتا اور کبھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس کو تکتا کہ اس (رخ زیبا) کے توسل سے بارش مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (منبر سے) اترنے بھی نہ پاتے کہ سارے پرنالے بہنے لگتے۔ مذکورہ بالا شعر حضرت ابوطالب کا ہے۔‘‘
607 / 59. عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رضي الله عنه أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَي النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : ادْعُ اﷲَ لِي أَنْ يُعَافِيَنِي. فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ لَکَ وَهُوَ خَيْرٌ. وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ. فَقَالَ : ادْعُهُ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ وَيُصَلِّيَ رَکْعَتَيْنِ. وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ : (اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ. يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَي رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَي. اَللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ).
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَاللَّفْظُ لَهُ.
وَقَالَ أَبُوْعِيسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ أَبُوْ إِسْحَاقَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيحٌ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ الْأَلْبَانِيُّ : صَحِيْحٌ.
الحديث رقم 59 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : في دعاء الضعيف، 5 / 569، الرقم : 3578، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 168، الرقم : 10494، 10495، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، باب : ماجاء في صلاة الحاجة، 1 / 441، الرقم : 1385، وابن خزيمة في الصحيح، 2 / 225، الرقم : 1219، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 138، الرقم : 17240 - 17242، والحاکم في المستدرک، 1 / 458، 700، 707، الرقم : 1180، 1909، 1929، والطبراني في المعجم الصغير، 1 / 306، الرقم : 508، وفي المعجم الکبير، 9 / 30، الرقم : 8311، والبخاري في التاريخ الکبير، 6 / 209، الرقم : 2192، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 147، الرقم : 379، والنسائي في عمل اليوم والليلة، 1 / 417، الرقم : 658 - 660، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 272، الرقم : 1018، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 279.
’’حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میرے لئے خیر و عافیت (یعنی بینائی کے لوٹ آنے) کی دعا فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تو چاہے تو تیرے لئے دعا کو مؤخر کر دوں جو تیرے لئے بہتر ہے اور اگر تو چاہے تو تیرے لئے (ابھی) دعا کر دوں۔ اس نے عرض کیا : (آقا) دعا فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اچھی طرح وضو کرنے اور دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا : یہ دعا کرنا : (اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ. يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَی رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَی. اَللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ) ’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں نبی رحمت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتا ہوں تاکہ پوری ہو۔ اے اللہ! میرے حق میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت قبول فرما۔‘‘
608 / 60. عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ : قَحَطَ أَهْلُ الْمَدِيْنَةِ قَحْطًا شَدِيْدًا فَشَکَوْا إِلَي عَاءِشَةَ رضي اﷲ عنها فَقَالَتْ : انْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَاجْعَلُوا مِنْهُ کُوًي إِلَي السَّمَاءِ حَتَّي لَا يَکُوْنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ، قَالَ فَفَعَلُوْا فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّي نَبَتَ الْعُشْبُ وَسَمِنَتِ الإِبِلُ حَتَّي تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
الحديث رقم 60 : أخرجه الدارمي في السنن، باب : (15) : ما أکرم اﷲ تعالي نبيّه صلي الله عليه وآله وسلم بعد موته، 1 / 56، الرقم : 92، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 4 / 400، الرقم : 5950، وابن الجوزي في الوفاء بأحوال المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم، 2 / 801، وتقي الدين السبکي في شفاء السقام، 1 / 128، والقسطلاني في المواهب اللدنية، 4 / 276، وفي شرحه الزرقاني، 11 / 150.
’’حضرت ابو جوزاء اوس بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے (اپنی ناگفتہ بہ حالت کی) شکایت کی۔ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور (یعنی روضہ اقدس) کے پاس جاؤ اور وہاں سے ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھولو کہ قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا تو بہت زیادہ بارش ہوئی یہاں تک کہ خوب سبزہ اگ آیا اور اونٹ اتنے موٹے ہو گئے کہ (محسوس ہوتا تھا) جیسے وہ چربی سے پھٹ پڑیں گے لہٰذا اس سال کا نام ہی ’’عَامُ الْفَتْق‘‘ (پیٹ) پھٹنے کا سال رکھ دیا گیا۔‘‘
609 / 61. عَنْ مَالِکِ الدَّارِ رضي الله عنه قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِيْ زَمَنِ عُمَرَ رضي الله عنه، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَي قَبْرِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! اسْتَسْقِ لِأُمَّتِکَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَکُوْا، فَأَتَي الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيْلَ لَهُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ أَنَّکُمْ مَسْقِيُّوْنَ وَقُلْ لَهُ : عَلَيْکَ الْکِيْسُ! عَلَيْکَ الْکِيْسُ! فَأَتَي عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَبَکَي عُمَرُ ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ لَا آلُوْ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّلَائِلِ.
الحديث رقم 61 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 356، الرقم : 32002، والبيهقي في دلائل النبوة، 7 / 47، وابن عبد البر في الاستيعاب، 3 / 1149، والسبکي في شفاء السقام، 1 / 130، والهندي في کنزل العمال، 8 / 431، الرقم : 23535، وابن تيمية : في اقتضاء الصراط المستقيم، 1 / 373، وً ابنُ کَثِيْرٌ في البداية والنهاية، 5 / 167، وَ قَال : إسْنَادُهُ صَحيحَ، والعَسْقلانِيُّ في الإصابة، 3 / 484 وقَال : رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شيبة بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.
’’حضرت مالک دار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے پھر ایک صحابی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اطہر پر حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ (اﷲ تعالیٰ سے) اپنی امت کے لئے سیرابی مانگیں کیونکہ وہ (قحط سالی کے باعث) ہلاک ہو گئی ہے پھر خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صحابی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : عمر کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ تم سیراب کئے جاؤ گے اور عمر سے (یہ بھی) کہہ دو (دین کے دشمن (سامراجی) تمہاری جان لینے کے درپے ہیں) عقلمندی اختیار کرو، عقلمندی اختیار کرو پھر وہ صحابی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں خبر دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا : اے اﷲ! میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ عاجز ہو جاؤں۔‘‘
610 / 62. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما أَنَّهُ قَالَ : اسْتَقَي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه عَامَ الرِّمَادَةِ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي اﷲ عنهما فَقَالَ : اللَّهُمَّ، هَذَا عَمُّ نَبِيِکَ الْعَبَّاسُ نَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِهِ فَاسْقِنَا فَمَا بَرِحُوْا حَتَّي سَقَاهُمُ اﷲُ. قَالَ : فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ يَرَي لِلْعَبَّاسِ مَا يَرَي الْوَلَدُ لِوَالِدِهِ يُعَظِّمُهُ وَيُفَحِّمُهُ وَيَبِرُّ قَسَمَهُ فَاقْتَدُوْا أَيُّهَا النَّاسُ، بِرَسُوْلِ اﷲِ فِي عَمِّهِ الْعَبَّاسِ وَاتَّخَذُوْهُ وَسِيْلَةً إِلَي اﷲ عزوجل فِيْمَا نَزَلَ بِکُمْ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.
الحديث رقم 62 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 377، الرقم : 5438، وابن عبدالبر في الاستيعاب، 3 / 98، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 305، الرقم : 559، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 92، والعسقلاني في فتح الباري، 2 / 497، والقسطلاني في المواهب اللدنية، 4 / 277، والسبکي في شفاء السقام، 1 / 128، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 9 / 348، والمناوي في فيض القدير، 5 / 215.
’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عام الرمادہ (قحط و ہلاکت کے سال) میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہما کو وسیلہ بنایا اور اﷲ تعالیٰ سے بارش کی دعا مانگی اور عرض کیا : اے اﷲ! یہ تیرے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معزز چچا حضرت عباس ہیں ہم ان کے وسیلہ سے تیری نظر کرم کے طلبگار ہیں ہمیں پانی سے سیراب کر دے وہ دعا کر ہی رہے تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں پانی سے سیراب کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب فرمایا : اے لوگو! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ویسا ہی سمجھتے تھے جیسے بیٹا باپ کو سمجھتا ہے (یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بمنزل والد سمجھتے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تعظیم و توقیر کرتے اور ان کی قسموں کو پورا کرتے تھے۔ اے لوگو! تم بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کرو اور انہیں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ بناؤ تاکہ وہ تم پر (بارش) برسائے۔‘‘
611 / 63. عَنْ مُصْعَبِ ابْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه قَالَ : رَأَي سَعْدٌ رضي الله عنه أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَي مَنْ دُوْنَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : هَلْ تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ إِلَّا بِضُعَفَائِکُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ.
وفي رواية : عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ سَمِعْتُ النَّبيَّ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : ابْغُوْنِي فِي ضُعَفَائِکُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُوْنَ وَتُنْصَرُوْنَ بِضُعَفَائِکُمْ.
رَوَاهُ التِّرمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
الحديث رقم 63 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الجهاد، باب : مَنِ اسْتَعَانَ بالضُّعَفَاءِ وَ الصَّالِحِين في الْحَرْبِ، 3 / 1061، الرقم : 2739، والترمذي في السنن، کتاب : الجهاد عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في الاستفتاح بصعاليک المسلمين، 4 / 206، الرقم : 1702، وأبو داود في السنن، کتاب : الجهاد، باب : في الانتصار برزل الخيل والضعفة، 3 / 32، الرقم : 2594، والنسائي في السنن، کتاب : الجهاد، باب : الاستنصار بالضعيف، 6 / 45، الرقم : 3179، وفي السنن الکبري، 3 / 30، الرقم : 4388، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 198، الرقم : 21779، وابن حبان في الصحيح، 11 / 85، الرقم : 4767، والحاکم في المستدرک، 2 / 116، 157، الرقم : 2509، 2641، وَ قَالَ الحاکمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 345، الرقم : 6181 : 6 / 331، الرقم : 12684، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 71، الرقم : 4842 - 4843.
’’حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے دل میں خیال آیا کہ انہیں ان لوگوں پر فضیلت ہے جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں۔ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یاد رکھو تمہارے کمزور اور ضعیف لوگوں کے وسیلہ سے ہی تمہیں نصرت عطا کی جاتی ہے اور ان کے وسیلہ سے ہی تمہیں رزق دیا جاتا ہے۔‘‘
’’اور ایک روایت میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کرو بے شک تمہیں اپنے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی رزق دیا جاتا ہے اور ان ہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے۔‘‘
612 / 64. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ عليه السلام الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَي الْعَرْشِ فَقَالَ : أَسَأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَّا غَفَرْتَ لِي فَأَوْحَي اﷲُ إِلَيْهِ : وَمَا مُحَمَّدٌ؟ وَمَنْ مُحَمَّدٌ؟ فَقَالَ : تَبَارَکَ اسْمُکَ، لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَي عَرْشِکَ فَرَأَيْتُ فِيْهِ مَکْتُوْبًا : لَا إِلَهَ إِلَّا اﷲُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اﷲِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَکَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَهُ مَعَ اسْمِکَ، فَأَوْحَي اﷲُ عزوجل إِلَيْهِ : يَا آدَمُ، إِنَّهُ آخِرُ النَّبِيِيْنَ مِنْ ذُرِّيَتِکَ، وَإِنَّ أُمَّتَهُ آخِرُ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَتِکَ، وَلَوْلَاهُ يَا آدَمُ مَا خَلَقْتُکَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
الحديث رقم 64 : أخرجه الطبراني في المعجم الصغير، 2 / 182، الرقم : 992، وفي المعجم الأوسط، 6 / 313، الرقم : 6502، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 253، والسيوطي في جامع الأحاديث، 11 / 94.
’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض گزار ہوئے : (یا اﷲ!) اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو میں (تیرے محبوب) محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں (کہ تو مجھے معاف فرما دے) تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔ محمد مصطفیٰ کون ہیں؟ پس حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا : (اے مولا!) تیرا نام پاک ہے جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا وہاں میں نے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ لکھا ہوا دیکھا لہٰذا میں جان گیا کہ یہ ضرور کوئی بڑی ہستی ہے جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملایا ہے پس اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی : ’’اے آدم! وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیری نسل میں سے آخری نبی ہیں اور ان کی امت بھی تیری نسل کی آخری امت ہو گی اور اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘
613 / 65. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِذَا انْفَلَتَتْ دَابَّةُ أَحَدِکُمْ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَلْيُنَادِ يَا عِبَادَ اﷲِ! احْبِسُوْا عَلَيَّ، يَا عِبَادَ اﷲِ! احْبِسُوْا عَلَيَّ، فَإِنَِّﷲِ فِي الْأَرْضِ حَاضِرًا سَيَحْبِسُهُ عَلَيْکُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْيَعْلَي.
وفي رواية : عَنْ عَتَبَةَ بْنِ غَزْوَانَ رضي الله عنه عَنْ نَبِيِّ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِذَا أَضَلَّ أَحَدُکُمْ شَيْأ أَوْ أَرَادَ أَحَدُکُمْ عَوْنًا وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيْسٌ فَلْيَقُلْ : يَا عِبَادَ اﷲِ أَغِيْثُوْنِي يَا عِبَادَ اﷲِ أَغِيْثُوْنِي فَإِنَِّﷲِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ وَقَدْ جُرِّبَ ذَلِکَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
الحديث رقم 65 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 217، الرقم : 10518، : 17 / 117، الرقم : 290، وأبويعلي في المسند، 9 / 177، الرقم : 5269، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 330، الرقم : 1311، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 132.
’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی سواری جنگل بیاباں میں چھوٹ جائے تو اس (شخص) کو (یہ) پکارنا چاہیے : اے اﷲ کے بندو! میری سواری پکڑا دو، اے اﷲ کے بندو! میری سواری پکڑا دو کیوں کہ اﷲ تعالیٰ کے بہت سے (ایسے) بندے اس زمین میں ہوتے ہیں، وہ تمہیں (تمہاری سواری) پکڑا دیں گے۔‘‘
’’اور ایک روایت میں حضرت عتبہ بن عزوان رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی کوئی شے گم ہو جائے اور وہ کوئی مدد چاہے اور وہ ایسی جگہ ہو کہ جہاں اس کا کوئی مدد گار بھی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ کہے : اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، یقینًا اﷲ تعالیٰ کے ایسے بھی بندے ہیں جنہیں ہم دیکھ تو نہیں سکتے (لیکن وہ لوگوں کی مدد کرنے پر مامور ہیں) اور یہ تجربہ شدہ بات ہے۔
الحديث رقم 57 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستسقاء، باب : سُؤَالِ النَّاسِ الإمام الاستسقاء إِذا قَحَطُوا، 1 / 342، الرقم : 964، وفي کتاب : فضائل الصحابة، باب : ذکر العَبَّاسِ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رضي اﷲ عنهما، 3 / 1360، الرقم : 3507، وابن خزيمة في الصحيح، 2 / 337، الرقم : 1421، وابن حبان في الصحيح، 7 / 110، الرقم : 2861، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 49، الرقم : 2437، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 352، الرقم : 6220، والشيباني في الآحاد والمثاني، 1 / 270، الرقم : 351، واللالکائي في کرامات الأولياء، 1 / 135، الرقم : 87 وابن عبد البر في الاستيعاب، 2 / 814، وابن جرير الطبري في تاريخ الأمم والملوک، 4 / 433.
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قحط پڑ جاتا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے اور عرض کرتے : اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ پکڑا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برسا دیتا تھا اور اب ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معزز چچا جان کو وسیلہ بناتے ہیں کہ تو ہم پر بارش برسا۔ فرمایا : تو ان پر بارش برسا دی جاتی۔‘‘
606 / 58. عَنْ عَبْدِ اﷲِ ابْنِ دِيْنَارٍ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ أَبِي طَالِبٍ :
وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَي الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَي عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ : حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيْهِ : رُبَّمَا ذَکَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ، وَاَنَا أَنْظُرُ إِلَي وَجْهِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّي يَجِيْشَ کُلُّ مِيْزَابٍ.
وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَي الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَي عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.
الحديث رقم 58 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستسقاء، باب : سُؤَالِ النَّاسِ الإِمَامَ الإستسقاءَ إذا قَحَطُوا، 1 / 342، الرقم : 963، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، باب : ماجاء في الدعاء في الاستسقاء، 1 / 405، الرقم : 1272، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 93، الرقم : 5673، 26، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 352، الرقم : 6218 - 6219، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 14 / 386، الرقم : 7700، والعسقلاني في تغليق التعليق، 2 / 389، الرقم : 1009، وابن کثير في البداية والنهاية، 4 / 2، 471، والمزي في تحفة الأشراف، 5 / 359، الرقم : 6775.
’’حضرت عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو حضرت ابوطالب کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا :
’’وہ گورے (مکھڑے والے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جن کے چہرے کے توسل سے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کے والی، بیواؤں کے سہارا ہیں۔‘‘
حضرت عمر بن حمزہ کہتے ہیں کہ حضرت سالم (بن عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنھم) نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ کبھی میں شاعر کی اس بات کو یاد کرتا اور کبھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس کو تکتا کہ اس (رخ زیبا) کے توسل سے بارش مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (منبر سے) اترنے بھی نہ پاتے کہ سارے پرنالے بہنے لگتے۔ مذکورہ بالا شعر حضرت ابوطالب کا ہے۔‘‘
607 / 59. عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رضي الله عنه أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَي النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : ادْعُ اﷲَ لِي أَنْ يُعَافِيَنِي. فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ لَکَ وَهُوَ خَيْرٌ. وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ. فَقَالَ : ادْعُهُ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ وَيُصَلِّيَ رَکْعَتَيْنِ. وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ : (اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ. يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَي رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَي. اَللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ).
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَاللَّفْظُ لَهُ.
وَقَالَ أَبُوْعِيسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ أَبُوْ إِسْحَاقَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيحٌ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ الْأَلْبَانِيُّ : صَحِيْحٌ.
الحديث رقم 59 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : في دعاء الضعيف، 5 / 569، الرقم : 3578، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 168، الرقم : 10494، 10495، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، باب : ماجاء في صلاة الحاجة، 1 / 441، الرقم : 1385، وابن خزيمة في الصحيح، 2 / 225، الرقم : 1219، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 138، الرقم : 17240 - 17242، والحاکم في المستدرک، 1 / 458، 700، 707، الرقم : 1180، 1909، 1929، والطبراني في المعجم الصغير، 1 / 306، الرقم : 508، وفي المعجم الکبير، 9 / 30، الرقم : 8311، والبخاري في التاريخ الکبير، 6 / 209، الرقم : 2192، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 147، الرقم : 379، والنسائي في عمل اليوم والليلة، 1 / 417، الرقم : 658 - 660، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 272، الرقم : 1018، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 279.
’’حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میرے لئے خیر و عافیت (یعنی بینائی کے لوٹ آنے) کی دعا فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تو چاہے تو تیرے لئے دعا کو مؤخر کر دوں جو تیرے لئے بہتر ہے اور اگر تو چاہے تو تیرے لئے (ابھی) دعا کر دوں۔ اس نے عرض کیا : (آقا) دعا فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اچھی طرح وضو کرنے اور دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا : یہ دعا کرنا : (اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ. يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَی رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَی. اَللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ) ’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں نبی رحمت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتا ہوں تاکہ پوری ہو۔ اے اللہ! میرے حق میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت قبول فرما۔‘‘
608 / 60. عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ : قَحَطَ أَهْلُ الْمَدِيْنَةِ قَحْطًا شَدِيْدًا فَشَکَوْا إِلَي عَاءِشَةَ رضي اﷲ عنها فَقَالَتْ : انْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَاجْعَلُوا مِنْهُ کُوًي إِلَي السَّمَاءِ حَتَّي لَا يَکُوْنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ، قَالَ فَفَعَلُوْا فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّي نَبَتَ الْعُشْبُ وَسَمِنَتِ الإِبِلُ حَتَّي تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
الحديث رقم 60 : أخرجه الدارمي في السنن، باب : (15) : ما أکرم اﷲ تعالي نبيّه صلي الله عليه وآله وسلم بعد موته، 1 / 56، الرقم : 92، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 4 / 400، الرقم : 5950، وابن الجوزي في الوفاء بأحوال المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم، 2 / 801، وتقي الدين السبکي في شفاء السقام، 1 / 128، والقسطلاني في المواهب اللدنية، 4 / 276، وفي شرحه الزرقاني، 11 / 150.
’’حضرت ابو جوزاء اوس بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے (اپنی ناگفتہ بہ حالت کی) شکایت کی۔ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور (یعنی روضہ اقدس) کے پاس جاؤ اور وہاں سے ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھولو کہ قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا تو بہت زیادہ بارش ہوئی یہاں تک کہ خوب سبزہ اگ آیا اور اونٹ اتنے موٹے ہو گئے کہ (محسوس ہوتا تھا) جیسے وہ چربی سے پھٹ پڑیں گے لہٰذا اس سال کا نام ہی ’’عَامُ الْفَتْق‘‘ (پیٹ) پھٹنے کا سال رکھ دیا گیا۔‘‘
609 / 61. عَنْ مَالِکِ الدَّارِ رضي الله عنه قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِيْ زَمَنِ عُمَرَ رضي الله عنه، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَي قَبْرِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! اسْتَسْقِ لِأُمَّتِکَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَکُوْا، فَأَتَي الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيْلَ لَهُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ أَنَّکُمْ مَسْقِيُّوْنَ وَقُلْ لَهُ : عَلَيْکَ الْکِيْسُ! عَلَيْکَ الْکِيْسُ! فَأَتَي عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَبَکَي عُمَرُ ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ لَا آلُوْ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّلَائِلِ.
الحديث رقم 61 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 356، الرقم : 32002، والبيهقي في دلائل النبوة، 7 / 47، وابن عبد البر في الاستيعاب، 3 / 1149، والسبکي في شفاء السقام، 1 / 130، والهندي في کنزل العمال، 8 / 431، الرقم : 23535، وابن تيمية : في اقتضاء الصراط المستقيم، 1 / 373، وً ابنُ کَثِيْرٌ في البداية والنهاية، 5 / 167، وَ قَال : إسْنَادُهُ صَحيحَ، والعَسْقلانِيُّ في الإصابة، 3 / 484 وقَال : رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شيبة بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.
’’حضرت مالک دار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے پھر ایک صحابی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اطہر پر حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ (اﷲ تعالیٰ سے) اپنی امت کے لئے سیرابی مانگیں کیونکہ وہ (قحط سالی کے باعث) ہلاک ہو گئی ہے پھر خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صحابی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : عمر کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ تم سیراب کئے جاؤ گے اور عمر سے (یہ بھی) کہہ دو (دین کے دشمن (سامراجی) تمہاری جان لینے کے درپے ہیں) عقلمندی اختیار کرو، عقلمندی اختیار کرو پھر وہ صحابی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں خبر دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا : اے اﷲ! میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ عاجز ہو جاؤں۔‘‘
610 / 62. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما أَنَّهُ قَالَ : اسْتَقَي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه عَامَ الرِّمَادَةِ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي اﷲ عنهما فَقَالَ : اللَّهُمَّ، هَذَا عَمُّ نَبِيِکَ الْعَبَّاسُ نَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِهِ فَاسْقِنَا فَمَا بَرِحُوْا حَتَّي سَقَاهُمُ اﷲُ. قَالَ : فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ يَرَي لِلْعَبَّاسِ مَا يَرَي الْوَلَدُ لِوَالِدِهِ يُعَظِّمُهُ وَيُفَحِّمُهُ وَيَبِرُّ قَسَمَهُ فَاقْتَدُوْا أَيُّهَا النَّاسُ، بِرَسُوْلِ اﷲِ فِي عَمِّهِ الْعَبَّاسِ وَاتَّخَذُوْهُ وَسِيْلَةً إِلَي اﷲ عزوجل فِيْمَا نَزَلَ بِکُمْ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.
الحديث رقم 62 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 377، الرقم : 5438، وابن عبدالبر في الاستيعاب، 3 / 98، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 305، الرقم : 559، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 92، والعسقلاني في فتح الباري، 2 / 497، والقسطلاني في المواهب اللدنية، 4 / 277، والسبکي في شفاء السقام، 1 / 128، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 9 / 348، والمناوي في فيض القدير، 5 / 215.
’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عام الرمادہ (قحط و ہلاکت کے سال) میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہما کو وسیلہ بنایا اور اﷲ تعالیٰ سے بارش کی دعا مانگی اور عرض کیا : اے اﷲ! یہ تیرے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معزز چچا حضرت عباس ہیں ہم ان کے وسیلہ سے تیری نظر کرم کے طلبگار ہیں ہمیں پانی سے سیراب کر دے وہ دعا کر ہی رہے تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں پانی سے سیراب کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب فرمایا : اے لوگو! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ویسا ہی سمجھتے تھے جیسے بیٹا باپ کو سمجھتا ہے (یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بمنزل والد سمجھتے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تعظیم و توقیر کرتے اور ان کی قسموں کو پورا کرتے تھے۔ اے لوگو! تم بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کرو اور انہیں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ بناؤ تاکہ وہ تم پر (بارش) برسائے۔‘‘
611 / 63. عَنْ مُصْعَبِ ابْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه قَالَ : رَأَي سَعْدٌ رضي الله عنه أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَي مَنْ دُوْنَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : هَلْ تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ إِلَّا بِضُعَفَائِکُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ.
وفي رواية : عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ سَمِعْتُ النَّبيَّ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : ابْغُوْنِي فِي ضُعَفَائِکُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُوْنَ وَتُنْصَرُوْنَ بِضُعَفَائِکُمْ.
رَوَاهُ التِّرمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
الحديث رقم 63 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الجهاد، باب : مَنِ اسْتَعَانَ بالضُّعَفَاءِ وَ الصَّالِحِين في الْحَرْبِ، 3 / 1061، الرقم : 2739، والترمذي في السنن، کتاب : الجهاد عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في الاستفتاح بصعاليک المسلمين، 4 / 206، الرقم : 1702، وأبو داود في السنن، کتاب : الجهاد، باب : في الانتصار برزل الخيل والضعفة، 3 / 32، الرقم : 2594، والنسائي في السنن، کتاب : الجهاد، باب : الاستنصار بالضعيف، 6 / 45، الرقم : 3179، وفي السنن الکبري، 3 / 30، الرقم : 4388، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 198، الرقم : 21779، وابن حبان في الصحيح، 11 / 85، الرقم : 4767، والحاکم في المستدرک، 2 / 116، 157، الرقم : 2509، 2641، وَ قَالَ الحاکمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 345، الرقم : 6181 : 6 / 331، الرقم : 12684، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 71، الرقم : 4842 - 4843.
’’حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے دل میں خیال آیا کہ انہیں ان لوگوں پر فضیلت ہے جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں۔ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یاد رکھو تمہارے کمزور اور ضعیف لوگوں کے وسیلہ سے ہی تمہیں نصرت عطا کی جاتی ہے اور ان کے وسیلہ سے ہی تمہیں رزق دیا جاتا ہے۔‘‘
’’اور ایک روایت میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کرو بے شک تمہیں اپنے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی رزق دیا جاتا ہے اور ان ہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے۔‘‘
612 / 64. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ عليه السلام الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَي الْعَرْشِ فَقَالَ : أَسَأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَّا غَفَرْتَ لِي فَأَوْحَي اﷲُ إِلَيْهِ : وَمَا مُحَمَّدٌ؟ وَمَنْ مُحَمَّدٌ؟ فَقَالَ : تَبَارَکَ اسْمُکَ، لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَي عَرْشِکَ فَرَأَيْتُ فِيْهِ مَکْتُوْبًا : لَا إِلَهَ إِلَّا اﷲُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اﷲِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَکَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَهُ مَعَ اسْمِکَ، فَأَوْحَي اﷲُ عزوجل إِلَيْهِ : يَا آدَمُ، إِنَّهُ آخِرُ النَّبِيِيْنَ مِنْ ذُرِّيَتِکَ، وَإِنَّ أُمَّتَهُ آخِرُ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَتِکَ، وَلَوْلَاهُ يَا آدَمُ مَا خَلَقْتُکَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
الحديث رقم 64 : أخرجه الطبراني في المعجم الصغير، 2 / 182، الرقم : 992، وفي المعجم الأوسط، 6 / 313، الرقم : 6502، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 253، والسيوطي في جامع الأحاديث، 11 / 94.
’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض گزار ہوئے : (یا اﷲ!) اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو میں (تیرے محبوب) محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں (کہ تو مجھے معاف فرما دے) تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔ محمد مصطفیٰ کون ہیں؟ پس حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا : (اے مولا!) تیرا نام پاک ہے جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا وہاں میں نے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ لکھا ہوا دیکھا لہٰذا میں جان گیا کہ یہ ضرور کوئی بڑی ہستی ہے جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملایا ہے پس اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی : ’’اے آدم! وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیری نسل میں سے آخری نبی ہیں اور ان کی امت بھی تیری نسل کی آخری امت ہو گی اور اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘
613 / 65. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِذَا انْفَلَتَتْ دَابَّةُ أَحَدِکُمْ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَلْيُنَادِ يَا عِبَادَ اﷲِ! احْبِسُوْا عَلَيَّ، يَا عِبَادَ اﷲِ! احْبِسُوْا عَلَيَّ، فَإِنَِّﷲِ فِي الْأَرْضِ حَاضِرًا سَيَحْبِسُهُ عَلَيْکُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْيَعْلَي.
وفي رواية : عَنْ عَتَبَةَ بْنِ غَزْوَانَ رضي الله عنه عَنْ نَبِيِّ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِذَا أَضَلَّ أَحَدُکُمْ شَيْأ أَوْ أَرَادَ أَحَدُکُمْ عَوْنًا وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيْسٌ فَلْيَقُلْ : يَا عِبَادَ اﷲِ أَغِيْثُوْنِي يَا عِبَادَ اﷲِ أَغِيْثُوْنِي فَإِنَِّﷲِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ وَقَدْ جُرِّبَ ذَلِکَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
الحديث رقم 65 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 217، الرقم : 10518، : 17 / 117، الرقم : 290، وأبويعلي في المسند، 9 / 177، الرقم : 5269، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 330، الرقم : 1311، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 132.
’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی سواری جنگل بیاباں میں چھوٹ جائے تو اس (شخص) کو (یہ) پکارنا چاہیے : اے اﷲ کے بندو! میری سواری پکڑا دو، اے اﷲ کے بندو! میری سواری پکڑا دو کیوں کہ اﷲ تعالیٰ کے بہت سے (ایسے) بندے اس زمین میں ہوتے ہیں، وہ تمہیں (تمہاری سواری) پکڑا دیں گے۔‘‘
’’اور ایک روایت میں حضرت عتبہ بن عزوان رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی کوئی شے گم ہو جائے اور وہ کوئی مدد چاہے اور وہ ایسی جگہ ہو کہ جہاں اس کا کوئی مدد گار بھی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ کہے : اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، یقینًا اﷲ تعالیٰ کے ایسے بھی بندے ہیں جنہیں ہم دیکھ تو نہیں سکتے (لیکن وہ لوگوں کی مدد کرنے پر مامور ہیں) اور یہ تجربہ شدہ بات ہے۔
No comments:
Post a Comment