عَنْ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما يَقُوْلُ : إِنَّ النَّاسَ يَصِيْرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُثًا، کُلُّ أُمَّةٍ تَتْبَعُ نَبِيَهَا يَقُوْلُوْنَ : يَا فُلاَنُ اشْفَعْ، يَا فُلاَنُ اشْفَعْ، حَتَّي تَنْتَهِيَ الشَّفَاعَةُ إِلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَذَلِکَ يَوْمَ يَبْعَثُهُ اﷲُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ. رَوَاهُ الْبُخَارِِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
الحديث رقم 26 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : تفسير القرآن، باب : قوله : عسي أن يبعثک ربک مقاما محمودا، 4 / 1748، الرقم : 4441، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 381، الرقم : 295، وابن منده في الإيمان، 2 / 871، الرقم : 927.
’’حضرت آدم بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا : روزِ قیامت سب لوگ گروہ در گروہ ہو جائیں گے۔ ہر امت اپنے اپنے نبی کے پیچھے ہو گی اور عرض کرے گی : اے فلاں! شفاعت فرمائیے، اے فلاں! شفاعت کیجئے۔ یہاں تک کہ شفاعت کی بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر ختم ہو گی۔ پس اس روز شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘
575 / 27. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُوْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّي يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ، فَبَيْنَاهُمْ کَذَلِکَ اسْتَغَاثُوْا بِآدَمَ، ثُمَّ بِمُوْسَي، ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
الحديث رقم 27 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الزکاة، باب : مَنْ سأل الناس تَکَثُّرًا، 2 / 536، الرقم : 1405، وابن منده في کتاب الإيمان، 2 / 854، الرقم : 884، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 30، الرقم : 8725، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 269، الرقم : 3509، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 377، الرقم : 3677، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 371، ووثّقه.
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ (اس کی تپش کے باعث لوگوں کے) نصف کانوں تک (پسینہ) پہنچ جائے گا لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگیں گے۔‘‘
576 / 28. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
الحديث رقم 28 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في الشفاعة، 4 / 625، الرقم : 2435، وأبوداود في السنن، کتاب : السنة، باب : في الشفاعة، 4 / 236، الرقم : 4739، وابن ماجه عن جابر رضي الله عنه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4310، والحاکم في المستدرک، 1 / 139، الرقم : 228، وقال الحاکم : هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين، وأبو يعلي في المسند، 6 / 40، الرقم : 3284، والطبراني في المعجم الصغير، 1 / 272، الرقم : 448، والطيالسي في المسند، 1 / 233، الرقم : 1669.
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری شفاعت میری امت کے ان افراد کے لئے ہے جنہوں نے کبیرہ گناہ کئے۔‘‘
577 / 29. عَنْ أَبِي مُوْسَي الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : خُيِرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يُّدْخَلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ. فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَکْفَي أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِيْنَ؟ لَا. وَلَکِنَّهَا لِلْمُذْنِبِيْنَ، الْخَطَّائِيْنَ الْمُتَلَوِّثِيْنَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.
الحديث رقم 29 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4311، وأحمد بن حنبل عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما في المسند، 2 / 75، الرقم : 5452، والبيهقي في الاعتقاد، 1 / 202، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 378.
’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ اختیار دیا گیا کہ خواہ میں قیامت کے روز شفاعت کو چن لوں یا میری آدھی اُمت کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے تو میں نے اس میں سے شفاعت کو اختیار کیا ہے کیونکہ وہ عام اور (پوری اُمت کے لئے) کافی ہوگی اور تم شائد یہ خیال کرو کہ وہ پرہیزگاروں کے لئے ہو گی؟ نہیں بلکہ وہ (میری شفاعت) بہت زیادہ گناہگاروں، خطاکاروں اور برائیوں میں مبتلا ہونے والوں کے لئے ہو گی۔‘‘
578 / 30. عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَتَدْرُوْنَ مَا خَيَرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ؟ قُلْنَا : اﷲُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ قَالَ : فَإِنَّهُ خَيَرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخَلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ. فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ قُلْنَا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، ادْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ : هِيَ لِکُلِّ مُسْلِمٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ مُسْلِمٍ.
الحديث رقم 30 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1444، الرقم : 4317، والحاکم في المستدرک، 1 / 135، الرقم : 221، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 68، الرقم : 126، وفي مسند الشاميين، 1 / 326، الرقم : 575، وابن منده في الإيمان، 20 / 873، الرقم : 932.
’’حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جانتے ہو رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول سب سے بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ اگر میں چاہوں تو میری نصف اُمت کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں، میں نے شفاعت کو پسند کیا صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اﷲ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں (بھی) شفاعت کے حقداروں میں (شامل) کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ ہر مسلمان کے لئے ہے۔‘‘
579 / 31. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدً مَوْتِي کَانَ کَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالدَّارُقُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.
الحديث رقم 31 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 406، الرقم : 13496، والدارقطني عن حاطب رضي الله عنه في السنن، 2 / 278، الرقم : 193، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 489، الرقم : 4154، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 2.
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔‘‘
580 / 32. عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا، أَوْسَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ (لَا يَدْرِي أَبُوْحَازِمٍ أَيُّهُمَا قَالَ) : مُتَمَاسِکُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، لايَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّي يَدْخُلَ آخِرُهُمْ، وُجُوْهُهُمْ عَلَي صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
الحديث رقم 32 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الرِّقاق، باب : صفة الجنة والنار، 5 / 2399، الرقم : 6187، وفي باب : يدخل الجنة سبعون ألفا بغير حساب، 5 / 2396، الرقم : 6177، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : الدليل علي دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 198، الرقم : 219.
’’امام ابوحازم حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد جنت میں داخل ہوں گے (ابو حازم کو یاد نہیں رہا کہ ان میں سے کون سی تعداد مروی ہے) وہ ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوں گے ان میں سے پہلا شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا جب تک ان کا آخری فرد بھی داخل نہ ہو جائے (یعنی وہ اپنے ہزاروں لاکھوں افراد کی نگرانی کر رہا ہوگا) ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔‘‘
581 / 33. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِکُمْ فِي الْحَقِّ يَکُوْنُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ أُدْخِلُوْا النَّارَ قَالَ : يَقُوْلُوْنَ : رَبَّنَا إِخْوَانُنَا کَانُوْا يُصَلُّوْنَ مَعَنَا وَيَصُوْمُوْنَ مَعَنَا وَيَحُجُّوْنَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ : فَيَقُوْلُ : اذْهَبُوْا فَأَخْرِجُوْا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ، قَالَ : فَيَأْتُوْنَهُمْ فَيَعْرِفُوْنَهُمْ بِصُوَرِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَي أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَي کَعْبَيْهِ، فَيُخْرِجُوْنَهُمْ، فَيَقُوْلُوْنَ : رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا قَالَ : وَيَقُوْلُ : أَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِيْنَارٍ مِنَ الإِْيْمَانِ ثُمَّ قَالَ : مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّي يَقُوْلَ : مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ. قَالَ أَبُوْسَعِيْدٍ : فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الآيَةَ : (إِنَّ اﷲَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَکَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَلِکَ لِمَنْ يَشَاءُ) إِلَي (عَظِيْمًا). (النساء، 4 : 48). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه.
الحديث رقم 33 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : في قول اﷲ تعالي : وجوه يومئذ ناضرة إلي ربها ناظرة، 6 / 2707، الرقم : 7001، والنسائي في السنن، کتاب : الإيمان وشرائعه، باب : زيادة الإيمان، 8 / 112، الرقم : 5010، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب : في الإيمان، 1 / 23، الرقم : 60، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 94، الرقم : 117، والحاکم في المستدرک، 4 / 626، الرقم : 8736، وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِِ، وابن راشد في الجامع، 11 / 410.
’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے کسی ایک شخص کا بھی دنیا میں کسی حق بات کے لئے تکرار کرنا اس قدر سخت نہیں ہو گا جو تکرار مومنین کاملین اپنے پروردگار سے اپنے ان بھائیوں کے لئے کریں گے جو جہنم میں داخل کئے جا چکے ہوں گے۔ وہ عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار! ہمارے یہ بھائی ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ہی ساتھ حج کرتے تھے اور تو نے انہیں دوزخ میں ڈال دیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اچھا تم جنہیں پہچانتے ہو انہیں جا کر خود ہی دوزخ سے نکال لو۔ کہتے ہیں : وہ ان کے پاس جائیں گے اور ان کی شکلیں دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے۔ ان میں سے بعض کو تو آگ نے پنڈلیوں کے نصف تک اور بعض کو ٹخنوں تک پکڑا ہو گا۔ وہ انہیں نکالیں گے اور پھر عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں جن کے نکالنے کا حکم فرمایا تھا انہیں ہم نے نکال لیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : انہیں بھی جا کر نکال لو جن کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہے۔ پھر فرمائے گا : اسے بھی نکال لاؤ جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہے (پھر) یہاں تک فرمائے گا : اسے بھی (نکال لاؤ) جس کے دل میں ذرّہ برابر ایمان ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب جس شخص کو یقین نہ آئے تو وہ یہ آیتِ کریمہ پڑھ لے۔ ’’بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔‘‘(النساء، 4 : 48)۔
582 / 34. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : يَصُفُّ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوْفًا (وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : أَهْلُ الْجَنَّةِ) فَيَمُرُّ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عَلَي الرَّجُلِ، فَيَقُوْلُ : يَا فُلَانُ، أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ اسْتَسْقَيْتَ فَسَقَيْتُکَ شَرْبَةً؟ قَالَ : فَيَشْفَعُ لَهُ، وَيَمُرُّ الرَّجُلُ، فَيَقُوْلُ : أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ نَاوَلْتُکَ طَهُوْرًا؟ فَيَشْفَعُ لَهُ، وَيَقُوْلُ : يَا فُلَانُ، أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ بَعَثْتَنِي فِي حَاجَةِ کَذَا وَکَذَا؟ فَذَهَبْتُ لَکَ، فَيَشْفَعُ لَهُ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَبُوْيَعْلَي.
الحديث رقم 34 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الأدب، باب : فضل صدقة الماء، 2 / 1215، الرقم : 3685، وأبو يعلي في المسند، 7 / 78، الرقم : 4006، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 317، الرقم : 6511، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 39، الرقم : 1415، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 382، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 3 / 275.
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ صفیں بنائیں گے (ابن نمیر نے کہا یعنی کہ اہلِ جنت) تو دوزخیوں میں سے ایک شخص جنتیوں میں سے ایک شخص کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا : اے فلاں! تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے پانی مانگا تھا اور میں نے تجھے پانی پلایا تھا؟ راوی فرماتے ہیں : پس وہ جنتی اس دوزخی کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی دوسرے آدمی کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا : تجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دن تجھے طہارت کے لئے پانی دیا تھا؟ چنانچہ وہ اس کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی کہے گا : اے فلاں : تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے مجھے اس اس کام کے لئے بھیجا تھا چنانچہ میں تیری خاطر چلاگیا تھا؟ پس وہ اس کی شفاعت کرے گا۔
الحديث رقم 26 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : تفسير القرآن، باب : قوله : عسي أن يبعثک ربک مقاما محمودا، 4 / 1748، الرقم : 4441، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 381، الرقم : 295، وابن منده في الإيمان، 2 / 871، الرقم : 927.
’’حضرت آدم بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا : روزِ قیامت سب لوگ گروہ در گروہ ہو جائیں گے۔ ہر امت اپنے اپنے نبی کے پیچھے ہو گی اور عرض کرے گی : اے فلاں! شفاعت فرمائیے، اے فلاں! شفاعت کیجئے۔ یہاں تک کہ شفاعت کی بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر ختم ہو گی۔ پس اس روز شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘
575 / 27. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُوْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّي يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ، فَبَيْنَاهُمْ کَذَلِکَ اسْتَغَاثُوْا بِآدَمَ، ثُمَّ بِمُوْسَي، ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
الحديث رقم 27 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الزکاة، باب : مَنْ سأل الناس تَکَثُّرًا، 2 / 536، الرقم : 1405، وابن منده في کتاب الإيمان، 2 / 854، الرقم : 884، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 30، الرقم : 8725، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 269، الرقم : 3509، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 377، الرقم : 3677، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 371، ووثّقه.
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ (اس کی تپش کے باعث لوگوں کے) نصف کانوں تک (پسینہ) پہنچ جائے گا لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگیں گے۔‘‘
576 / 28. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
الحديث رقم 28 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في الشفاعة، 4 / 625، الرقم : 2435، وأبوداود في السنن، کتاب : السنة، باب : في الشفاعة، 4 / 236، الرقم : 4739، وابن ماجه عن جابر رضي الله عنه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4310، والحاکم في المستدرک، 1 / 139، الرقم : 228، وقال الحاکم : هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين، وأبو يعلي في المسند، 6 / 40، الرقم : 3284، والطبراني في المعجم الصغير، 1 / 272، الرقم : 448، والطيالسي في المسند، 1 / 233، الرقم : 1669.
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری شفاعت میری امت کے ان افراد کے لئے ہے جنہوں نے کبیرہ گناہ کئے۔‘‘
577 / 29. عَنْ أَبِي مُوْسَي الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : خُيِرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يُّدْخَلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ. فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَکْفَي أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِيْنَ؟ لَا. وَلَکِنَّهَا لِلْمُذْنِبِيْنَ، الْخَطَّائِيْنَ الْمُتَلَوِّثِيْنَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.
الحديث رقم 29 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4311، وأحمد بن حنبل عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما في المسند، 2 / 75، الرقم : 5452، والبيهقي في الاعتقاد، 1 / 202، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 378.
’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ اختیار دیا گیا کہ خواہ میں قیامت کے روز شفاعت کو چن لوں یا میری آدھی اُمت کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے تو میں نے اس میں سے شفاعت کو اختیار کیا ہے کیونکہ وہ عام اور (پوری اُمت کے لئے) کافی ہوگی اور تم شائد یہ خیال کرو کہ وہ پرہیزگاروں کے لئے ہو گی؟ نہیں بلکہ وہ (میری شفاعت) بہت زیادہ گناہگاروں، خطاکاروں اور برائیوں میں مبتلا ہونے والوں کے لئے ہو گی۔‘‘
578 / 30. عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَتَدْرُوْنَ مَا خَيَرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ؟ قُلْنَا : اﷲُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ قَالَ : فَإِنَّهُ خَيَرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخَلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ. فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ قُلْنَا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، ادْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ : هِيَ لِکُلِّ مُسْلِمٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ مُسْلِمٍ.
الحديث رقم 30 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1444، الرقم : 4317، والحاکم في المستدرک، 1 / 135، الرقم : 221، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 68، الرقم : 126، وفي مسند الشاميين، 1 / 326، الرقم : 575، وابن منده في الإيمان، 20 / 873، الرقم : 932.
’’حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جانتے ہو رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول سب سے بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ اگر میں چاہوں تو میری نصف اُمت کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں، میں نے شفاعت کو پسند کیا صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اﷲ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں (بھی) شفاعت کے حقداروں میں (شامل) کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ ہر مسلمان کے لئے ہے۔‘‘
579 / 31. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدً مَوْتِي کَانَ کَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالدَّارُقُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.
الحديث رقم 31 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 406، الرقم : 13496، والدارقطني عن حاطب رضي الله عنه في السنن، 2 / 278، الرقم : 193، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 489، الرقم : 4154، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 2.
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔‘‘
580 / 32. عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا، أَوْسَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ (لَا يَدْرِي أَبُوْحَازِمٍ أَيُّهُمَا قَالَ) : مُتَمَاسِکُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، لايَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّي يَدْخُلَ آخِرُهُمْ، وُجُوْهُهُمْ عَلَي صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
الحديث رقم 32 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الرِّقاق، باب : صفة الجنة والنار، 5 / 2399، الرقم : 6187، وفي باب : يدخل الجنة سبعون ألفا بغير حساب، 5 / 2396، الرقم : 6177، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : الدليل علي دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 198، الرقم : 219.
’’امام ابوحازم حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد جنت میں داخل ہوں گے (ابو حازم کو یاد نہیں رہا کہ ان میں سے کون سی تعداد مروی ہے) وہ ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوں گے ان میں سے پہلا شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا جب تک ان کا آخری فرد بھی داخل نہ ہو جائے (یعنی وہ اپنے ہزاروں لاکھوں افراد کی نگرانی کر رہا ہوگا) ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔‘‘
581 / 33. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِکُمْ فِي الْحَقِّ يَکُوْنُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ أُدْخِلُوْا النَّارَ قَالَ : يَقُوْلُوْنَ : رَبَّنَا إِخْوَانُنَا کَانُوْا يُصَلُّوْنَ مَعَنَا وَيَصُوْمُوْنَ مَعَنَا وَيَحُجُّوْنَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ : فَيَقُوْلُ : اذْهَبُوْا فَأَخْرِجُوْا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ، قَالَ : فَيَأْتُوْنَهُمْ فَيَعْرِفُوْنَهُمْ بِصُوَرِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَي أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَي کَعْبَيْهِ، فَيُخْرِجُوْنَهُمْ، فَيَقُوْلُوْنَ : رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا قَالَ : وَيَقُوْلُ : أَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِيْنَارٍ مِنَ الإِْيْمَانِ ثُمَّ قَالَ : مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّي يَقُوْلَ : مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ. قَالَ أَبُوْسَعِيْدٍ : فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الآيَةَ : (إِنَّ اﷲَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَکَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَلِکَ لِمَنْ يَشَاءُ) إِلَي (عَظِيْمًا). (النساء، 4 : 48). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه.
الحديث رقم 33 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : في قول اﷲ تعالي : وجوه يومئذ ناضرة إلي ربها ناظرة، 6 / 2707، الرقم : 7001، والنسائي في السنن، کتاب : الإيمان وشرائعه، باب : زيادة الإيمان، 8 / 112، الرقم : 5010، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب : في الإيمان، 1 / 23، الرقم : 60، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 94، الرقم : 117، والحاکم في المستدرک، 4 / 626، الرقم : 8736، وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِِ، وابن راشد في الجامع، 11 / 410.
’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے کسی ایک شخص کا بھی دنیا میں کسی حق بات کے لئے تکرار کرنا اس قدر سخت نہیں ہو گا جو تکرار مومنین کاملین اپنے پروردگار سے اپنے ان بھائیوں کے لئے کریں گے جو جہنم میں داخل کئے جا چکے ہوں گے۔ وہ عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار! ہمارے یہ بھائی ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ہی ساتھ حج کرتے تھے اور تو نے انہیں دوزخ میں ڈال دیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اچھا تم جنہیں پہچانتے ہو انہیں جا کر خود ہی دوزخ سے نکال لو۔ کہتے ہیں : وہ ان کے پاس جائیں گے اور ان کی شکلیں دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے۔ ان میں سے بعض کو تو آگ نے پنڈلیوں کے نصف تک اور بعض کو ٹخنوں تک پکڑا ہو گا۔ وہ انہیں نکالیں گے اور پھر عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں جن کے نکالنے کا حکم فرمایا تھا انہیں ہم نے نکال لیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : انہیں بھی جا کر نکال لو جن کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہے۔ پھر فرمائے گا : اسے بھی نکال لاؤ جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہے (پھر) یہاں تک فرمائے گا : اسے بھی (نکال لاؤ) جس کے دل میں ذرّہ برابر ایمان ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب جس شخص کو یقین نہ آئے تو وہ یہ آیتِ کریمہ پڑھ لے۔ ’’بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔‘‘(النساء، 4 : 48)۔
582 / 34. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : يَصُفُّ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوْفًا (وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : أَهْلُ الْجَنَّةِ) فَيَمُرُّ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عَلَي الرَّجُلِ، فَيَقُوْلُ : يَا فُلَانُ، أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ اسْتَسْقَيْتَ فَسَقَيْتُکَ شَرْبَةً؟ قَالَ : فَيَشْفَعُ لَهُ، وَيَمُرُّ الرَّجُلُ، فَيَقُوْلُ : أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ نَاوَلْتُکَ طَهُوْرًا؟ فَيَشْفَعُ لَهُ، وَيَقُوْلُ : يَا فُلَانُ، أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ بَعَثْتَنِي فِي حَاجَةِ کَذَا وَکَذَا؟ فَذَهَبْتُ لَکَ، فَيَشْفَعُ لَهُ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَبُوْيَعْلَي.
الحديث رقم 34 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الأدب، باب : فضل صدقة الماء، 2 / 1215، الرقم : 3685، وأبو يعلي في المسند، 7 / 78، الرقم : 4006، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 317، الرقم : 6511، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 39، الرقم : 1415، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 382، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 3 / 275.
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ صفیں بنائیں گے (ابن نمیر نے کہا یعنی کہ اہلِ جنت) تو دوزخیوں میں سے ایک شخص جنتیوں میں سے ایک شخص کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا : اے فلاں! تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے پانی مانگا تھا اور میں نے تجھے پانی پلایا تھا؟ راوی فرماتے ہیں : پس وہ جنتی اس دوزخی کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی دوسرے آدمی کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا : تجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دن تجھے طہارت کے لئے پانی دیا تھا؟ چنانچہ وہ اس کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی کہے گا : اے فلاں : تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے مجھے اس اس کام کے لئے بھیجا تھا چنانچہ میں تیری خاطر چلاگیا تھا؟ پس وہ اس کی شفاعت کرے گا۔
No comments:
Post a Comment